ہریش راؤ کے ریمارکس سے تلنگانہ اسمبلی میں سنسنی

   

معطل شدہ عہدیدار سے وائیٹ پیپر کی تیاری، ریاستی وزیر سریدھر بابو کا اعتراض
حیدرآباد۔/20 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن ہریش راؤ نے آج اسمبلی میں یہ کہتے ہوئے سنسنی دوڑادی کہ آندھرا پردیش کے معطل شدہ عہدیدار کے ذریعہ معاشی صورتحال پر وائیٹ پیپر تیار کیا گیا ہے۔ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ وائیٹ پیپر کی تیاری کے سلسلہ میں حکومت نے تلنگانہ کے عہدیداروں پر بھروسہ نہیں کیا۔ چیف منسٹر کے ایک سابق گرو سے قربت رکھنے والے ریٹائرڈ عہدیدار کی خدمات حاصل کرتے ہوئے بی آر ایس کی سابق حکومت کو نشانہ بنانے کیلئے وائیٹ پیپر تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے ایک ریٹائرڈ عہدیدار نے یہ وائیٹ پیپر تیار کیا ہے۔ وزیر امور مقننہ سریدھر بابو نے ہریش راؤ کے بیان پر اعتراض کیا اور کہا کہ وائیٹ پیپر کی تیاری کیلئے مخصوص عہدیداروں کا نام لینا ٹھیک نہیں ہے حکومت کے تمام عہدیدار اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ سریدھر بابو نے اسپیکر سے خواہش کی کہ ہریش راؤ کے ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کیا جائے یا پھر ہریش راؤ اپنے الفاظ واپس لیں۔ ہریش راؤ نے کہاکہ وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں اور اگر حکومت چاہے تو وہ عہدیدار کا نام بھی پیش کرسکتے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ معطل شدہ عہدیدار کی جانب سے وائیٹ پیپر کی تیاری کا ثبوت ان کے پاس موجود ہے اور حکومت اگر چاہے تو وہ ایوان میں پیش کریں گے۔ اسپیکر پرساد کمار نے اس معاملہ پر مزید بحث کی اجازت نہیں دی اور ہریش راؤ کو تقریر جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ر