ہر جگہ جنتر منتر احتجاج

   

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
دسہرہ تہوار کی تعطیلات کے دوران وقفہ کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف احتجاج ایک بار پھر شروع ہونے جا رہا ہے ۔ سی جے پی ہو یا دوسری طلباء تنظیمیوں ہوں یا پھر دوسرے سیول سوسائیٹی کے کارکن ہوں سبھی نے اس احتجاج میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ کئی اہم شخصیتوں کو اس احتجاج کیلئے مدعو کیا گیا ہے ۔ چونکہ گذشتہ دنوں دہلی پولیس کی جانب سے جنتر منتر کو احتجاج کا مقام برقرار نہیں رکھا گیا تھا اورا س کی نوعیت کو تبدیل کردیا گیا تھا تاکہ وہاں کسی کو احتجاج کی اجازت نہ مل سکے ۔ اس کے بعد اب جو احتجاج گیانیش کمار اور ایس آئی ار کے خلاف کیا جا رہا ہے اسے دارالحکومت دہلی کے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی منعقد کرنے کی منصوبہ بندی ہے ۔ دہلی میں بھی محتلف مقامات پر یہ احتجاج کیا جاسکتا ہے اور ملک کے کئی اور شہروں مںی بھی اس رطح کا احتجاج کیا جائے گا ۔ طلباء قائدین نیہا بورا ‘ عائشے گھوش ‘ سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے ‘ اداکار پرکاش راج ‘ ماہر معاشیات پرکالا پربھاکر ‘ سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن اور دوسرے اس احتجاج میں شرکت کرنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے ۔ اب اس احتجاج کو مختلف مقامات پر منعقد کرتے ہوئے ہر جگہ جنتر منتر کا نعرہ دیا گیا ہے ۔ اس طرح احتجاج کے منتظمین نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ کسی ایک مقام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جہاں کہیں انہیں موقع ملے گا وہ احتجاج جاری رکھیں گے اور حکومت یا دہلی پولیس کی احتجاج کو ختم کرنے اور کچلنے کی کوششوں کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔یہ پیام بھی دیا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعہ احتجاج کو ختم کرنے میں حکومت یا پولیس کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ وہ ہر طرح کی رکاوٹوں کے باوجود اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اپنے مطالبہ کو مزید شدتک ے ساتھ پیش کرتے رہیں گے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار مستعفی ہوجائیں اور ملک بھر میں جو ایس آئی آر کروایا جا رہا ہے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا جائے ۔
اس مسئلہ کو بنیاد بناکر احتجاج کیا جا رہا ہے وہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ان پر دو ساتھی الیکشن کمشنران کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر اور من مانی انداز میں فیصلے کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایس آئی آر کے نام پر ملک بھر میں 13 کروڑ رائے دہندوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کردئے گئے ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی یا قابل نظر انداز تعداد نہیں ہے ۔ دونوں ہی مسائل انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور اس سے ملک کی جمہوریت کو کھوکھلے کرنے کی سازش کے اندیشے لاحق ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ایک غیرجانبدار اور آزادنہ دستوری ادارہ ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کی ایماء پر حکومت کو فائدہ پہونچانے کیلئے کام کرنے کے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ الیکشن کمیشن نے تاحال جو الزامات عائد کئے گئے ہیں ان پر کسی طرح کا رد عمل بھی ظاہر نہیں کیا ہے اور نہ ہی تینوں الیکشن کمشنران نے مشترکہ طور پر کسی پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے ۔ کمیشن کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ اس طرح جو الزامات ہیں وہ عوام کے ذہنوں میں مزید تقویت پانے لگے ہیں ۔ ساتھ ہی 13 کروڑ نام فہرست سے غائب کرنا بھی ایک انتہائی سنگین نوعیت کا ہی مسئلہ کہا جاسکتا ہے ۔
اس طرح کی صورتحال کے خلاف ملک کے عوام میں خود بے چینی کی فضاء پائی جاتی ہے ۔ لوگ اس مسئلہ پر تشویش کا شکار ہیں۔ ایسے میں اگر طلباء تنظیموں ‘ سماجی جہد کاروں ‘ وکلاء اور نوجوانوں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے تو لوگ اس سے جڑ رہے ہیں اور الیکشن کمیشن سے سوال کرنے لگے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کمیشن خاموش ہے لیکن حکومت اور بی جے پی کمیشن کی مدد کیلئے آگے آ رہی ہے ۔ جو احتجاج وقفہ کے بعد شروع کیا جا رہا ہے اس کو روکنے یا کچلنے کی کوششوں سے حکومت کو باز آجانے کی ضرورت ہے ۔