نلگنڈہ کے قائدین سے مشاورت، منگوڑ میں کامیابی پر توجہ، اختلافات ختم کرنے کی مساعی
حیدرآباد۔/14 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سیآر نے نلگنڈہ کے منگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ پر توجہ مرکوز کرکے ضلع قائدین سے مشاورت کا آغاز کیا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چوتھے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس کی کامیابی کو یقینی بنانے ابھی سے ضلع قائدین کو متحد کرنے کوشش کررہے ہیں۔ دوباک اور حضورآباد میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ناگر جنا ساگر ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس نے اپنی نشست کو برقرار رکھا۔ منگوڑ میں توقع ہے کہ نومبر میں ضمنی چناؤ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے منگوڑ اسمبلی حلقہ کی ذمہ داری وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ضلع کے وزیر برقی جگدیش ریڈی اور صدرنشین کونسل جی سکھیندر ریڈی معاون رہیں گے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے پارٹی قائدین سے ٹیلی کانفرنس کی اور مشورہ دیا کہ ابھی سے امیدواری کی دعویداری پیش کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ کئی قائدین نے خود کو امکانی امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے حالانکہ پارٹی کی سطح پر امیدوار کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہر شخص اگر خود کو امیدوار تصور کرنے لگ جائے تو پارٹی کیڈر میں الجھن پیدا ہوگی جس کا نقصان پارٹی کو ہوسکتا ہے۔ کے سی آر نے کہاکہ منگوڑ حلقہ کا ضمنی چناؤ اہمیت کا حامل ہے لہذا قائدین کو غیر سنجیدہ انداز ترک کرنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے امیدواری کے بارے میں بیان بازی ترک کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مناسب وقت پر امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائیگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ قائدین متحدہ پارٹی امیدوار کی کامیابی کیلئے کام کریں۔ متحدہ ورنگل قائدین وزیر جگدیش ریڈی، ضلع انچارج رویندر ریڈی، ضلع صدر رویندر کمار کے علاوہ بھوپال ریڈی اور ایس کرشنا ریڈی سے چیف منسٹر نے منگوڑ کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ٹی آر ایس کو منگوڑ سے کامیابی ملی تھی جبکہ 2018 میں معمولی فرق سے شکست ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی امیدواروں کے نام پر غور ہوگا۔ جس امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے انہیں کامیاب بنانا تمام قائدین کی ذمہ داری ہوگی۔ چیف منسٹر نے مختلف سروے رپورٹس کا حوالہ دیا اور کہا کہ عوام کا رجحان ٹی آر ایس کے حق میں ہے۔ر