ہمارے عمل سے رسولؐ کی خوشنودی یا ملت کی تباہی

   

نکاح سنت کے مطابق لیکن ضیافت کے نام پر کروڑہا روپئے کا اسراف
شادی اور دیگر تقاریب کے موقع پرمختلف اُمور میں مسلمان خود شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کے مرتکب

حیدرآباد۔27اگسٹ(سیاست نیوز) شریعت پر عمل کرنے سے کوئی طاقت مسلمانوں کو روک نہیں سکتی اور مسلمان پر لازمی ہے کہ وہ شریعت پر عمل آوری کو یقینی بنائے اور اس بات کو ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے اور احکام شریعت کا پابند ہونے میں ہی اس کی نجات کا اس کو یقین ہے۔ شرعی قوانین پر عمل کرنے سے کوئی حکومت مسلمانوں کو روک نہیں سکتی یہ دعوے تو ہر کوئی کرتے ہیں لیکن جب شریعت پر عمل آوری کی بات ہوتی ہے تو چند آیات کی تلاوت کی حد تک شریعت کو محدود کرتے ہوئے دیگر غیر شرعی امور میں خود کو مبتلاء کرتے ہوئے فخر محسوس کرنے والے بھی مسلمان ہی ہیں۔ نکاح کی تقریب میں خطبۂ نکاح اور ایجاب و قبول کے علاوہ کونسا عمل شریعت کے مطابق رہ گیا ہے! اس صورتحا ل کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ شریعت کی دھجیاں اڑانے والوں میں دینی علوم سے بے بہرہ مسلمان بڑی حد تک ذمہ دار ہیں اور وہ اپنی اس ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرسکتے کیونکہ شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے اور اس کی تشہیر کے باعث وہ غیر شرعی امور کے فروغ کے ذمہ دار بھی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ پر عائد کی گئی پابندی کے بعد ملک بھر میں شریعت میں مداخلت کے خلاف آوازیں اٹھائی جانے لگی لیکن اگر شہر حیدرآباد میں جو نکاح کی تقاریب منعقد ہورہی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اب شریعت میں مداخلت یا شریعت پر عمل سے روکنے کے لئے کسی حکومت یا ظالم حکمراں کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ مسلمان خود شرعی احکام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے نفس کو خوش کرنے کیلئے تیار ہیں اور اب حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کی مخالفت کو اپنی شرعی ذمہ داری تصور کرتے ہوئے اظہار خیال کرنے لگتے ہیں۔شہر حیدرآباد میں ہونے والی نکاح کی تقاریب کے سلسلہ میں علمی طبقہ کا کہناہے کہ حیدرآباد میں جس تزک و احتشام کے ساتھ نکاح کی تقاریب کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے اور جس طرح سے لاکھوںروپئے نکاح کی تقریبات پر خرچ کئے جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے جو حکم دیا ہے کہ ’’نکاح و آسان کرو‘‘ اس کی صریح خلاف ورزی کی جا رہی ہے لیکن بعض گوشوں سے یہ آوازآرہی ہے کہ اللہ نے جب گنجائش فراہم کی ہے تو خاطر تواضع کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن کوئی بھی اس سنگین موضوع پر توجہ مرکوز کرنے کے تیار نہیں ہے کہ نکاح کی تقاریب کے انعقاد کے لئے لاکھوں روپئے کرایہ ادا کرتے ہوئے فنکشن ہال ایک شب کیلئے حاصل کئے جا رہے ہیں ۔ ملک میں حیدرآباد ایک ایسا واحد شہر ہے جہاں شادی خانوں کی اتنی بڑی تعداد ہے اور شادی خانوں کے کرایہ کا جائزہ لیا جائے تو شہر حیدرآباد میں ہی 10ہزار سے 12لاکھ روپئے کرایہ کے شادی خانے موجود ہیں اور شادی خانہ کو بہترین سرمایہ کاری تصور کرتے ہوئے بہترین شادی خانوں کی تعمیر عمل میں لائی جا رہی ہے ۔حیدرآباد اور نواحی علاقوں کے شادی خانوں کا جائزہ لیا جائے اور ان میں ہونے والی شادیوں کا اندازہ لگایاجائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ امت مسلمہ ایک رات میں کروڑہا روپئے صرف شادی خانوں کے کرایہ کے نام پر ادا کر رہی ہے جبکہ حکم ہے کہ ’’ نکاح کو آسان کرو تاکہ زنا مشکل ہوجائے‘‘ کروڑہا روپئے شادی خانو ںکے کرایہ کے لئے ادا کرنے والوں کی جانب سے اس حکم پر عمل نہ کرنا ہی شریعت پر عمل آوری نہ کرنے کے مترادف ہے جبکہ اس ایک برائی کے ساتھ کئی اور احکامات کی نفی کی جانے لگی ہے جو کہ نکاح کے امور کے سلسلہ میں نافذ کئے گئے ہیں لیکن ان احکام سے بے پرواہ ملت اپنے طور طریقہ پر عمل کرنے کے دوران شریعت کے کئی احکام کو نظرانداز کرنے کی مرتکب بن رہی ہے۔ نکاح کی تقاریب کا مساجد میں انعقاد اچھی بات ہے اور سنت طریقہ بھی ہے لیکن مسجد میں نکاح کے بعد دوبارہ بڑے سے بڑے شادی خانوں میں ضیافت کے نام پر انجام دی جانے والی غیر شرعی سرگرمیوں کے سلسلہ میں کوئی کچھ کہنے تیار نہیں ہے بلکہ ملک کے موجودہ حالات میں دوسرے درجہ کے شہری کے احساس کے ساتھ زندگی گذارنے والی قوم کی نکاح کی تقاریب کا جائزہ لیں تو قطعی یہ محسوس نہیں ہورہا ہے کہ امت مسلمہ میں افتاد آن پڑی ہے اور مسلمانوں کو ملک میں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ملک میں آئندہ معاشی حالات انتہائی ابتر ہونے کی پیش قیاسی کی جانے لگی ہے اور اگر اب بھی مسلمان چوکسی اختیارکرتے ہوئے اسراف سے گریز نہیں کرتے ہیں تو انہیںسنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی لئے ان حالات میں مسلمانو ںکو اپنا محاسبہ کرتے ہوئے بچت کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہئے اور کروڑہا روپئے برباد کرنے سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آیا وہ اس دولت کے خرچ سے اللہ کے رسوﷺ کی خوشنودی حاصل کررہے ہیںیا تباہی !