ہمیں منی پور پر بولنے سے روکا گیا، بی جے پی حلیف کا سنگین الزام

,

   

راہول گاندھی کے دورہ منی پور کی ستائش:این پی ایف رکن لورہو پافوج
نئی دہلی: بی جے پی کی حلیف ناگا پیپلز فرنٹ کے ایک رکن پارلیمنٹ لورہو پافوج نے کہا کہ ہمیں منی پور کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بولنے سے روکا گیا۔ پافوج نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں منی پور پر بات کرنا چاہتے تھے لیکن اعلیٰ قیادت نے ہمیں اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم بی جے پی کے اتحادی ہیں لیکن ہمیں اپنے لوگوں کیلئے بھی بولنا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں کس نے روکا تو پافوج نے کہا کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اس لیے ہمیں کچھ احکامات پر عمل کرنا ہوگا۔ بی جے پی نے منی پور میں اگرچہ کام کیا ہے لیکن تشدد سے جس طرح سے نمٹا گیا وہ غلط ہے۔راہول گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے نے کہا کہ وہ ہمارے مخالف کیمپ سے ہیں لیکن جس طرح سے وہ منی پور گئے اور لوگوں سے ملاقاتیں کیں، اس سے میں بہت متاثر ہوا۔ وزیراعظم کو جا کر زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے تھا ۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منی پور پر حکومت کی طرف سے دیئے گئے جوابات سے میں خوش نہیں ہوں۔ جب ہم منی پور کی بات کرتے ہیں تو دوسری ریاستوں سے موازنہ کیوں کرنا ہے؟ وزیر اعظم جو میرے لیڈر ہیں ان کو سامنے آ کر ان کے آنسو پونچنے چاہیے تھے۔پافوج اس سے پہلے بھی بیرن سنگھ حکومت کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ پچھلے مہینے ہی انہوں نے کہا تھا کہ میرے خیال میں منی پور کے وزیر اعلی کو ریاست میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

آل پارٹی میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ این بیرن سنگھ کو یا تو استعفیٰ دینا چاہئے یا برطرف کر دیا جانا چاہئے۔