ہم جنس پرستوں کے درمیانرشتہ ازدواج6 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت

   

حیدرآباد۔4۔جنوری(سیاست نیوز) نظام قدرت میں دخل اور غیر فطری اعمال دنیا کی تباہی کی دعوت کے مترادف ہیں اور جو کام فطرت کے خلاف ہو اس پر اصرار اور اسے ازروئے قانون درست قرار دیا جانا قدرت کے قوانین کو چیالنج کرنے کے مماثل ہے ۔ سپریم کورٹ نے 6 جنوری کو ہم جنس پرستوں کے درمیان رشتہ ازدواج کو سماجی طور پر قبول کرنے کے مقدمہ کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے اورچیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ کے علاوہ جسٹس ہیما کوہلی پر مشتمل ڈیویژن بنچ اس مقدمہ کی سماعت کرے گی۔ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر دوراں ہم جنس پرستوں کے رشتہ ازدواج کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کے سلسلہ میں مقدمات کو سپریم کورٹ میں یکجا کرتے ہوئے ان کی سماعت کے فیصلہ کے بعد کہا جا رہاہے کہ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے ہندستان میں ہم جنس پرستوں کے تعلقات کو رشتہ ازدواج کے طور پر قبول کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ہندستان دنیا کا 33 واں ملک ہوگا جہاں اس خباثت کو قانونی موقف حاصل ہوجائے گا۔م