برلن: جرمن چانسلر اولاف شولز کا کہنا ہے کہ جرمنوں کی تقدیر ان کے اپنے ہاتھ میں ہے اور آگے بڑھنے کا راستہ ‘ایک ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا’ ہے۔ انہوں نے ماگڈے برگ حملے میں امداد پہنچانے والوں کی بھی تعریف کی۔جرمنی میں معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہی سال 2024 اختتام پر پہنچا اور اس موقع پر جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنے نئے سال کی تقریر میں قوم پر زور دیا کو وہ متحدہ رہیں۔یہ سال معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہی ماگڈے برگ کے کرسمس میلے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کیلئے بھی سرخیوں میں رہا، جس میں پانچ افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے چانسلر نے کہاکہ تہوار کے موسم میں ماگڈے برگ کی کرسمس مارکیٹ میں ایک خوشگوار شام ایک ناقابل تصور خوفناک خواب میں تبدیل ہو گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ سوچ رہے تھے کہ ایسی تباہی کے بعد آگے بڑھنے کی طاقت کہاں سے مل سکتی ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ساتھ مضبوط کھڑے ہو کر اسے تلاش کر سکتے ہیں۔ ہم ایک ایسا ملک ہیں جو متحد رہتا ہے۔چانسلر شولز نے اس حملے کے فوری بعد پولیس اور طبی عملے سمیت جو لوگ بھی سب سے پہلے مدد کیلئے پہنچے، ان کی تعریف کی اور وہاں پر موجود اس دوکان دار کی طرح ایسے عام لوگوں کا بھی ذکر کیا، جو ساری رات زخمیوں اور امداد پہنچانے والوں کیلئے چائے بناتا رہا تھا۔”چانسلر کا یہ خطاب پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ نینسی فیزر سمیت اعلیٰ سکیورٹی حکام سے پوچھ گچھ کے چند گھنٹے بعد ہوا، جس میں ماگڈے برگ کے واقعہ میں سکیورٹی میں کوتاہی سے متعلق سوالات کیے گئے۔جرمن چانسلر نے ماگڈے برگ حملے کے بعد آن لائن گردش کرنے والی بہت سی افواہوں کی تردید کی، تاہم انہوں نے مکمل تحقیقات کا وعدہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے، جہاں سکیورٹی حکام مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام رہے، اس کی چھان بین کی جائے گی اور اس کا تدارک بھی کیا جائے گا۔جرمن عوام سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے شولز نے تقریباً 35 سال قبل سرمایہ دار مغربی جرمنی اور سوشلسٹ مشرقی جرمنی کے درمیان دوبارہ اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ “یہ ثابت کرتا ہے کہ جرمنی یہاں سے کہاں جائے گا اس کا فیصلہ آپ یعنی شہری کریں گے۔