ہندوستانیوں کے ساتھ امریکہ کے غیر انسانی رویہ پر مودی حکومت کی خاموشی

   

محمد علی شبیرکی تنقید، ہندوستان کی توہین پر مرکزی حکومت کی بے حسی افسوسناک
حیدرآباد ۔7۔فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے امریکہ سے 104 ہندوستانیوں کو فوجی طیارہ کے ذریعہ وطن واپس بھیجنے کی سختی سے مذمت کی اور اسے ہندوستان کی توہین اور ہندوستانیوں کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مودی حکومت ہندوستانیوں کی واپسی کے سلسلہ میں امریکہ کی جانب سے اختیار کردہ غیر انسانی رویہ کے خلاف احتجاج کرے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ امریکی فوجی طیارہ میں 104 ہندوستانیوں کو پنجاب کے امرتسر واپس بھیج دیا گیا۔ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہندوستانیوں کی واپسی کا یہ پہلا بیاچ ہے۔ غیر مقیم افراد کے خلاف مہم کے حصہ کے طور پر ہندوستانیوں کو روانہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی شہریوں کی واپسی پر کوئی حیرت نہیں ہے لیکن واپسی کے وقت اور طریقہ کار پر ہر ہندوستانی کو اعتراض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے ہندوستان کے سفر کے دوران تمام نوجوانوں کے ہاتھوں اور پیروں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈالی گئی تھیں۔ امرتسر میں طیارہ کی لینڈنگ کے بعد انہیں قیدیوں کی طرح رہا کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہندوستانیوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں اختیار کیا گیا جبکہ ہندوستانی نوجوان روزگار کی تلاش میں گئے تھے اور وہ کوئی دہشت گرد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ ہندوستانی شہریوں کو مجرموں کی طرح سلوک کریں اور غیر انسانی طریقہ سے سیویلین ایر کرافٹس کے بجائے فوجی طیارہ میں روانہ کیا گیا۔ مودی حکومت کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ وزارت خارجہ کو اس سلسلہ میں سخت موقف اختیار کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی ہندوستان کے وشوا گرو میں تبدیل کرنے اور روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو روکنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ ہندوستانیوں کی باوقار واپسی کو یقینی بنانے میں ناکام ہوگئے۔ ہندوستانی شہریوں کے وقار کیلئے جدوجہد کرنے کے بجائے مودی دہلی اسمبلی چناؤ کی مہم میں مصروف تھے ۔ نریندر مودی نے پھر ایک بار ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس کے بدلہ ہندوستانیوں کو توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد علی شبیر نے مرکزی حکومت کی جانب سے ہندوستانی شہریوں کی واپسی کے انتظامات میں ناکامی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ غیر قانونی کے نام پر جن ہندوستانیوں کو واپس کیا جارہا ہے ان میں زیادہ تر دستاویزات سے محروم ہیں۔ واپسی کے لئے پہلی مرتبہ فوجی طیارہ کے استعمال سے امریکہ کے عزائم کا پتہ چلتا ہے ۔ کولمبیا اور دیگر ممالک نے غیر انسانی طریقہ کار کی مذمت کی لیکن مودی حکومت اس مسئلہ پر خاموش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس حکومت نے متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے تقریباً 45 ہزار ہندوستانیوں کی واپسی کا نہ صرف انتظام کیا بلکہ ان کی ہر ممکن مدد کی گئی ۔ انہوں نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہندوستانیوں کے وقار کے تحفظ کے لئے اقدامات کریں ۔ صورتحال سے نمٹنے میں ناکامی پر وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کو وزارت سے برطرف کیا جائے۔1