ہندوستانی زبان اُردوجدوجہد آزادی کی زبان اُردو

   

جسٹس (ریٹائرڈ ) مارکنڈے کاٹجو
اُردو زبان کی مٹھاس اسے دوسری زبانوں میں ممتاز کرتی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ آزادی سے قبل یہ تعلیمیافتہ لوگوں کی زبان ہوا کرتی تھی ، شعر و شاعری خاص کر غزل ، نظم ، نغموں اور انقلابی نعروں کے معاملہ میں کوئی دوسری زبان اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ غرض اُردو ایک ایسی زبان ہے جو دو زبانوں ہندوستانی ( یا کھڑی بولی ) اور فارسی کے امتزاج سے وجود میں آئی ۔ باالفاظ دیگر ان دونوں زبانوں سے اس کی تخلیق ہوئی یہی وجہ تھی کہ ایک زمانہ میں اُسے ریختہ کہا جاتا تھا جس کے معنی مخلوط یا امتزاج ہوتے ہیں ۔ آپ کو بتادوں کہ اُس دور میں فارسی اشرافیہ کی زبان تھی جبکہ ہندوستانی عام لوگوں کی زبان کی حیثیت سے جاتی جاتی تھی ۔ اسی وجہ سے اُردو کی ایک دوہری فطرت ہے یعنی ایک طرف وہ عام لوگوں کی زبان ہے تو دوسری طرف اس میں اشرافیہ کی نزاکت ، شائستگی اور تہذیبی رنگ بھی پایا جاتا ہے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض لوگوں کو اُردو شاعری سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے جبکہ اُردو شاعری کے بعض اشعار باآسانی سمجھ میں آجاتے ہیں اور کئی ایسے اشعار ہوتے ہیں جنھیں لوگ سمجھ نہیں سکتے ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ کئی ایک اُردو شعراء جن میں مرزا غالبؔ بھی شامل ہیں اس خیال کے حامل تھے کہ شاعری کی زبان عام آدمی کی زبان جیسی نہیں ہونی چاہئے ۔ مرزا غالبؔ کو شاعرانہ اظہار میں عامیانہ انداز سے سخت نفرت تھی اور یہی بات اکثر اُن کی شاعری کو پیچیدہ بنادیتی ہے ۔ ان کی ابتدائی نظموں میں فارسی بہت زیادہ ہوا کرتی تھی ، ایسا محسوس ہوتا کہ اُن کی شاعری فارسی کی رنگ میں رنگی ہوئی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ عام لوگوں کیلئے اُن کی شاعری سمجھنا اکثر مشکل ہوا کرتا تھا ۔
اُن کے سوانح نگار حالیؔ لکھتے ہیں کہ غالبؔ کے ایک تہائی اشعار کو بمشکل اُردو اشعار کہا جاسکتا ہے اور یہاں تک کہ آج بھی اُن کے بعض اشعار تقریباً ناقابل فہم ہیں جیسا کہ راقم الحروف نے اپنے مضمون ’’اُردو کیا ہے ؟ ‘‘ میں لکھا ہے کہ اُردو دراصل فارسی اور ہندوستانی دو زبانوں کا ایک حسین امتزاج ہے ، ایک خوبصورت تخلیق ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو زبان میں فارسی کے بے شمار الفاظ ہیں ۔ یہ ایسے الفاظ ہیں جو عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہے ۔ جہاں تک اُردو شاعری کا سوال ہے اس میں اکثر ایک ظاہری ، لفظی اور سطحی مفہوم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ایک گہرا باطنی اور حقیقی مفہوم بھی ہوتا ہے جسے شاعر یا شعراء استعاروں ، اشاروں ، کنائیوں اور تلمیحات کے ذریعہ باضابطہ اور بالواسطہ طورپر بیان کرتا ہے۔ ایسے میں اسے اچھی طرح سمجھنے کیلئے اکثر ذہن پر زور دینا پڑتا ہے ۔ مثال کے طورپر اُردو کے ممتاز شاعر فیضؔ کا مشہور زمانہ یہ شعر ؎
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کے گلشن کا کاروبار چلے
ملاحظہ کیجئے اب اس کا لفظی اور ظاہری مفہوم یہ ہے کہ پھولوں میں نئی بہار کی رنگین ہوا چل رہی ہے ۔ ایسے میں تم چلے آؤ تاکہ گلشن کا کام جاری رہ سکے ۔ تاہم شاعر کاحقیقی مفہوم یہ نہیں ہے ۔ اس کے حقیقی معنی کو سمجھنے کیلئے صرف غور و فکر ہی کافی نہیں بلکہ اس تاریخی پس منظر کو بھی جاننا ضروری ہے جس میں یہ نظم لکھی گئی تھی ۔
فیض احمد فیضؔ نے یہ شعر 1954 ء میں اُس وقت کہا جب پاکستان میں مارشل لاء نافذ تھا ۔ وہ خود راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوکر مونٹ گمری جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے اور فوجی عدالت کا سامنا کررہے تھے اور اُنھیں راولپنڈی سازش کیس میں سزائے موت بھی ہوسکتی تھی ۔ حالات ایسے تھے کہ وہ کھل کر اپنی بات کہہ نہیں سکتے تھے اسی لئے فیضؔ نے استعاروں ، علامتوں اور اشارہ کنایئوں کا سہارا لیکر اپنے خیالات منظرعام پر لائے ۔ اگرچہ لفظ گلشن کے لغوی معنی باغ کے ہیں لیکن مذکورہ شعر میں گلشن سے مراد ملت ہے ۔ لہذا فیضؔ کے اس شعر کا اصل مفہوم یہ ہے کہ وطن میں انقلاب برپا کرنے کیلئے حالات سازگار ہوچکے ہیں اے وطن کے چاہنے والو آگے بڑھو ملک کو آپ کی ضرورت ہے ۔اس تشریح کے مطابق یہ نظم کوئی عشقیہ نظم نہیں جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں بلکہ یہ انقلاب کی دعوت ہے ۔ اس ضمن میں ایک اور مثال پیش کی جاتی ہے ۔ ہندوستان کے عظیم اُردو شاعر مجروح سلطان پوری کو ایک مرتبہ پاکستان مدعو کیا گیا وہاں ایک عظیم الشان مشاعرہ میں انھوں نے یہ شعر پڑھا ؎
بلا ہی بیٹھے اہل حرم تو اے مجروحؔ
ہم بھی بغل میں لئے ایک صنم کا ہاتھ چلے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شعر کا کیا مطلب ہے ۔ یہ ظاہری طورپر پراسرار محسوس ہوتا ہے اس لئے اس کی بھی وضاحت ضروری ہے ۔ لفظ اہل سے مراد لوگ ، حرم سے مراد عام طورپر کعبہ ہوتا ہے لیکن اس شعر میں اہل حرم سے مراد پاکستانی عوام ہیں کیونکہ پاکستان نے خود کو ایک اسلامی ریاست قرار دیا تھا ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘ اس شعر میں لفظ صنم کے دو معنی ہیں ایک تو بت اور دوسرا مطلب حسین و جمیل محبوبہ ۔ اس طرح مجروحؔ سلطان پوری کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اُنھیں ایک اسلامی ملک میں مدعو کیاگیا ہے یا بلایا گیا ہے لیکن وہ اپنا صنم بھی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ یعنی انھوں نے ہندوستان کو نہیں چھوڑا جہاں کی اکثریت بتوں کی پوجا کرتی ہے ، اُن کی عبادت کرتی ہے حالانکہ دین اسلام میں بت پرستی ممنوع ہے ۔
اگر دیکھا جائے تو اُردو شاعری اپنی فطرت کے لحاظ سے مزاحمت کی شاعری ہے یہ اصل میں ظلم و جبر ، عام انسانوں کی محرومیوں اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے اُردو شاعری کبیرؔ کی شاعری کی وارث ہے ۔ آئیے ہم یہاں فیضؔ کی مشہور نظم ’’ ہم دیکھیں گے ‘‘‘ پر بھی غور کریں گے ۔ آپ کو بتادوں کہ یہ نظم پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ مارشل لاء کے خلاف تھی ۔ اس لئے فیضؔ نے اسے محتاط ، بالراست اور اشعار کی زبان میں کہی ۔ اس کے برعکس پاکستان کے ایک اور مشہور شاعر حبیب جالب ؔ نے اپنی نظم ’’حکمراں ہوگئے کمینے لوگ ‘‘ بالواسطہ زبان میں لکھی ۔ یہاں تک انھوں نے جنرل ضیاء الحق کا نام بھی لیا اور جس کے نتیجہ میں اُنھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھیل دیا گیا ۔ اب بات کرتے ہیں اُردو کے ساتھ ناروا سلوک تعصب و جانبداری کی۔ اُردو کے ساتھ بہت ہی ناانصافی کی گئی خاص طورپر 1947 ء کے بعد جب متعصب ذہنوں نے اُردو کو صرف مسلمانوں سے جوڑتے ہوئے اسے مسلمانوں کی زبان قرار دیا اور جان بوجھ کر اسے ایک غیرملکی زبان کے طورپر پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 1947 ء سے پہلے ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں اُردو تعلیمیافتہ لوگوں کی مشترکہ زبان ہوا کرتی تھی چاہے وہ ہندو ہوں مسلمان ، سکھ یا عیسائی ہوں ۔ مزید براں یہ کہ اُردو کوئی غیرملکی زبان نہیں بلکہ ایک دیسی زبان ہے۔ عربی اور فارسی کی طرح اسے غیرملکی زبان نہیں کہا جاسکتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُردو میں استعمال ہونے والے تمام Verbs افعال ہندوستانی یا سادہ ہندی سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی جملے کی زبان کا تعین اسم یا صفت نہیں بلکہ فعل یا Verb کرتا ہے ۔ چنانچہ اُردو شاعری میں وہ قوت گویائی اور نفاست و شائستگی موجود ہے جو جدید ہندی شاعری میں نہیں پائی جاتی ۔ راقم الحروف نے کئی سال قبل الہ آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں اظہارِ خیال کے دوران یہ بات کہی تھی جس پر حاضرین نے میری ہوٹنگ کی تھی۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اُردو شاعری نے جدوجہد آزادی کے دوران عوام میں جذبۂ حریت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ مثال کے طورر بسملؔ عظیم آبادی کی مشہور نظم ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ‘‘ پیش کی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح میرے خیال میں آنے والے پرآشوب دور میں بھی ہندوستان کو اُردو شاعری کی ضرورت پڑے گی ۔ ایک مرتبہ راقم سے سوال کیا گیا کہ آپ کی نظر میں اُردو شاعری کا سب سے عظیم شعر کون سا ہے ؟ تب اس کے جواب میں ہم نے اس موضوع پر ایک مضمون لکھدیا یہاں تک کہ میں نے اپنے کئی ایک عدالتی فیصلوں میں بھی اُردو اشعار کا حوالہ دیا ہے اور اُن کی تفصیلات میرے مضامین میں موجود ہے ۔ اپنے مضمون کے آخر میں ساحرؔ لدھیانوی کے یہ درد بھرے اشعار پیش کرتا ہوں جسے 1969 ء میں آگرہ میں مرزا غالبؔ کی برسی کی تقریب میں انھوں نے پڑھے تھے ۔ اس تقریب میں شریک رہنے کا مجھے اعزاز حاصل ہے ۔ ساحرؔ لدھیانوی نے کہا تھا ؎
جن شہروں میں گونجی تھی غالب کی نوا برسوں
ان شہروں میں اب اُردو بے نام و نشاں ٹھہری
آزادیٔ کامل کا اعلان ہوا جس دن
معتوب زباں ٹھہری غدار زباں ٹھہری
جس عہد سیاست نے یہ زندہ زباں کچلی
اس عہد سیاست کو مرحوم کا غم کیوں ہے
غالبؔ جسے کہتے ہیں اردو ہی کا شاعر تھا
اردو پہ ستم ڈھا کر غالبؔ پہ کرم کیوں ہے