ممبئی: موتی لال اوسوال ایسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایم او اے ایم سی) کے ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں پیسیو فنڈ خاص طور پرچھوٹے سرمایہ کاروں کی سوچ کے مرکز میں آگئے ہیں اور ان فنڈز کے زیر انتظام اثاثے (اے یوایم) 2015 میں تمام طرح کے فنڈز کے اے یوایم کے 1.4 فیصد سے بڑھ کر آج 17 فیصد سے زائد ہوگئے ہیں۔ایم اواے ایم سی کے منگل کو سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ 61 فیصد سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم از کم ایک پیسیوفنڈ میں سرمایہ کاری کی ہے ۔ اس سروے کیلئے ملک بھر سے 2000 سے زائد سرمایہ کاروں سے سوالات اور آراء لی گئیں۔ ایم اواے ایم سی، 30 انڈیکس فنڈز، ای ٹی ایف اور ایف اوایف کے اے یوایم میں 17 ہزار کروڑ سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے ساتھ ہندوستان میں پیسیو فنڈز کی وسیع رینج پیش کرتا ہے ۔سروے کے مطابق پیسیو فنڈ میں سرمایہ کاری کی تین اہم وجوہات ہیں کم لاگت، سادگی اور مارکیٹ ریٹرن۔ رپورٹ کے مطابق ، جواب دہندگان میں سے 53 فیصد کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 12 مہینوں میں پیسیو فنڈز کیلئے اپنی بچت مختص کرنے میں اضافہ کیا ہے ۔