ہندوستان سنگین معاشی بحران کا شکار

   

وزیراعظم مودی سے سونے کی خریدی اور بیرونی سفر سے اجتناب اور ورک فرم ہوم کے احیاء کا مشورہ ، معاشی ابتری کے اعتراف کے مترادف
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔11۔مئی۔ہندستان سنگین معاشی بحران کا شکار ہونے لگا ہے اور بیرونی زرمبادلہ کے خرچ کو کم کرتے ہوئے ملک کی معیشت کو سنبھالا جاسکتا ہے ۔ نریند رمودی نے ہندستانی شہریوں کو سونے کی خریدی سے اجتناب ‘ بیرونی سفر سے اجتناب کرنے کا مشورہ دینے کے علاوہ آجرین کو ’ورک فرم ہوم‘ کے احیاء کا مشورہ دیتے ہوئے ملک کی معاشی حالت کی ابتری کا اعتراف کیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی 140کروڑ ہندستانیوں سے کی جانے والی اپیل کا منفی اثر اسٹاک مارکٹ پر دیکھا جانے لگا ہے اور ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہناہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے دوران آنجہانی اندراگاندھی نے بھی اس طرح اپیل نہیں کی تھی اور نہ ہی ڈاکٹر منموہن سنگھ نے عالمی معاشی بحران کے دوران اس طرح کی اپیل کی تھی لیکن نریندر مودی کی اس اپیل کے ساتھ ہی ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑنے لگی ہے۔ نریندر مودی نے ہندستانی شہریوں سے صرف سونے کی خریدی سے اجتناب کرنے یا بیرونی سفر بند کرنے کی اپیل نہیں کی بلکہ انہوں نے آجرین کو ’ورک فرم ہوم‘ کے احیاء کا مشورہ دینے کے علاوہ عوام سے خوردنی تیل کے استعمال میں 10 فیصد کی کمی لانے اور انہیں ذاتی گاڑیوں کے استعمال کے بجائے میٹرو ریل کے استعمال یا الکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے ذریعہ ایندھن کا استعمال کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ان کی اس اپیل کے ساتھ ہی معاشی ماہرین اور تقابلی جائزہ لینے والوں نے ملک کی معاشی حالت کے ساتھ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں زائد از 3سال تک خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کی تفصیلات پیش کرنی شروع کردی ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں زائد از 3 سال تک عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیارل رہی لیکن اس کے باوجود ان کے دور میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں قابو میں رکھنے کے علاوہ خریدی میں ہونے والی مشکلات کا تذکرہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی عوام سے استعمال میں کمی لانے کی اپیل کی گئی اور اب 2ماہ میں نریندر مودی حکومت نہ صرف عوام سے ایندھن کے استعمال میں کمی کا مشورہ دینے لگی ہے بلکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی منصوبہ بندی بھی جا رہی ہے۔ نریندر مودی کی اپیل کے مقاصد کے متعلق ماہرین کا کہناہے کہ ہندستان میں شہری ’’روپئے ‘‘ ادا کرتے ہوئے سونا خریدتے ہیں جبکہ حکومت ہند کو’’ڈالر ‘‘ اداکرتے ہوئے سونا خریدنا پڑتا ہے اسی طرح پٹرول و ڈیزل کے علاوہ پکوان گیاس بھی ’’ڈالر‘‘ ادا کرتے ہوئے خریدنے پڑتے ہیں۔ نریندر مودی نے ایندھن کے استعمال میں کمی کا مشورہ دیتے ہوئے میٹرو اور الکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا جو مشورہ دیا ہے اس کا مقصد بھی ایندھن کی خریدی کے سبب معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ نریندرمودی حکومت ایران ۔ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے سبب پیدا شدہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات کا عمل مکمل ہوتے ہی حکومت کو درپیش مسائل کا تذکرہ شروع کردیا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ 3سال 140 ڈالر فی بیارل خام تیل کی عالمی بازار میں قیمت کے باوجود ملک بھر میں ایندھن کی سربراہی میں رکاوٹ پیدا ہونے نہیں دی لیکن فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد اندرون 2ماہ نریندرمودی نے ہندستانی معیشت کو بچانے کے لئے ہندستانی شہریوں سے تعاون طلب کرنا شروع کردیا ہے بلکہ نریندر مودی حکومت 2ماہ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اتار چڑھاؤ کو برداشت نہیں کر پارہے ہیں۔وزیر اعظم نے حیدرآباد میں بی جے پی کے جلسہ عام کے دوران کی گئی تقریر میں ہندستانیوں سے جو اپیل کی ہے وہ دراصل ملک کے معاشی حالات کی عکاسی کرتی ہے ۔ ’ورک فرم ہوم‘ کے احیاء کی جو بات کی گئی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ایندھن کی کھپت میں کمی لانے کے لئے وزیر اعظم نے یہ اپیل کی ہے ۔ وزیر اعظم کی اپیل کے ساتھ ہی ہندستانی بازار میں پیدا ہونے والی ہلچل کے متعلق معاشی ماہرین کا کہناہے کہ اگر حصص بازار نے جس طرح کا ردعمل ظاہر ہوتا رہے گا تو ایسی صورت میں معاشی بحران کی صورتحال پیدا ہونے لگ جائے گی اور حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعہ اسے عوامی قوت خرید سے باہر کرنے کے بھی اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔وزیر اعظم نے خوردنی تیل کی خریدی کے سبب پیدا ہونے والے زرمبادلہ پر دباؤ کو بھی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندستانی عوام 10 فیصد تیل کے استعمال کو کم کرتے ہوئے ہندستانی معیشت میں اپناتعاون کرسکتے ہیں۔وزیر اعظم کی اس اپیل کے بعد ان کے دورۂ گجرات اوروہاں کئے گئے روڈ شو کو بھی مختلف گوشوں سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ وزیر اعظم عوام سے ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں اور دوسری سمت سینکڑوں گاڑیوں کے قافلہ میں خود روڈ شو کر رہے ہیں۔