پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)
فی الوقت دنیا کے حالات خراب ہیں ، خاص طور پر مشرق وسطی میں افرا تفری مچی ہوئی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد علاقہ میں ایک اور جنگ شروع ہوچکی ہے ۔ یہ جنگ شروع نہیں ہوئی بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کے ذریعہ اسے چھیڑا گیا، اسے ایران پر مسلط کیا گیا ۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ ایک اور جنگ شروع ہوچکی ہے اور اس جنگ کا اشتعال دلانے والا اسرائیل اور امریکہ اس پر عمل کرنے والا ملک ہے عالمی سطح پر یہی کہا جارہا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر اکسایا حالانکہ اس جنگ سے امریکہ اور امریکی عوام کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ باالفاظ دیگر امریکہ ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیابی حاصل کی کہ ایران نے تقریباً بلکہ مکمل طور پر جوہری اسلحہ تیار کرلئے ہیں اور وہ امریکہ کو دھمکی دینے کی منصوبہ سازی کر رہا ہے لیکن وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا کہ خفیہ معلومات تک رسائی رکھنے والے امریکی حکام نے ان مبینہ خطرات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صاف انکار کردیا۔ اس کے باوجود مسٹر ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر اس کے ساتھ ساز باز کر کے ایران کے خلاف مکمل جنگ شروع کردی ۔ (حقیقت یہ ہے کہ امریکی عوام حقوق انسانی کے جہد کار اور خود فوجی عہدیدار یہ کہنے لگے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کے اکسانے پر اس جنگ میں کود پڑا ہے۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارک روبیو کے مطابق اسرائیل کی ایماء پر امریکہ اس جنگ میں شامل ہوا ہے ، اس کے برعکس امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے ان کے ملک پر کسی نے دباؤ نہیں ڈالا)
ماضی کے بہانے : آپ سب کو یاد ہوگا کہ ماضی میں بھی امریکہ اور برطانیہ اس طرح کے بہانے بناتے ہوئے عراق پر قبضہ کیا، وہاں تباہی و بربادی مچائی ، صدام حسین کی حکومت کو زوال سے دوچار کیا اور پھر صدام حسین کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔ امریکہ اور برطانیہ نے ماضی میں یہ بہانہ بنایا تھا کہ عراق نے بڑے پیمانہ پر عام تباہی کے ہتھیار تیار کرلئے ہیں ۔ 2003 میں امریکی صدر بش نے اسی بہانہ اور جھوٹ کو عراق پر حملہ اور قبضہ کیلئے استعمال کیا تھا، اسی طرح معمر قذافی کو راستہ سے ہٹانے اور ان کی حکومت کے خاتمہ کیلئے ایک بہانہ کھڑا کیا کہ قذافی نے لیبیا میں شہریوں کے قتل عام کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس بہانہ کو اس وقت کے امریکی صدر بارک اوبامہ نے 2011 میں امر یکی مداخلت کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جائز ٹہرانے کیلئے استعمال کیا تھا ۔ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے Monroe Doctrine کا پھر سے احیاء کرتے ہوئے 2026 میں ونیزویلا میں حکومت کی تبدیلی کیلئے بڑی کامیابی سے استعمال کیا اور پھر Monroe Doctrine کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے وسعت دی ، اگر آپ ماضی اور حال کی جنگوں کا جائزہ لیں تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ اسرائیل کی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان اسرائیلی خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا جن کی دنیا 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے وحشیانہ حملوں میں بکھیر گئی ۔ مودی نے حیران کن انداز میں کچھ یوں کہا ’’اس لمحے اور اس کے بعد بھی ہندوستان پورے یقین اور مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کو غزہ میں فلسطینی بستیوں کی تباہی ، فلسطینیوں کے قتل و غارت گری ، ہزاروں انسانی جانوں کے اتلاف کی مذمت میں ایک لفظ ادا کرنے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ یہ صحیح ہے کہ حماس کے حملہ میں 1219 اسرائیلی مارے گئے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل کے زمینی اور فضائی حملوں میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی اپنی زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ مودی کا یہ خطاب 25 فروری 2026 کو ہوا تھا اور امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف 28 فروری کو جنگ شروع کی اور ایران نے ان حملوں کا جواب دینے کیلئے کئی عرب ملکوں میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مسٹر ٹرمپ نے پر زور انداز میں کہا اکہ یہ جنگ 4 سے 5 ہفتوں یا اس سے بھی زیادہ عرصہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے ، ہندوستان نے اسرائیل کی غیر مشروط تائید و حمایت کی اور ہندوستان کی اس غیر مشروط حمایت نے ہندوستان کیلئے اس امکان کو ختم کردیا کہ وہ جنگ کو ختم کرنے یا اسے دوسرے عرب ملکوں تک پھیلنے سے روکنے میں کوئی کردار ادا کرسکے ۔ اپنی اخلاقی ساکھ کھوکر ہندوستان محض ایک نااہل تماشائی بن گیا ہے جبکہ پورے خطہ اور اس سے آگے تک جنگ پھیل رہی ہے۔ یہاں تک کہ سری لنکا کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود تک بھی یہ پہنچ گئی ہے ۔
امریکہ اسرائیل کا مقصد ایرانی حکومت کی تبدیلی ہے : اصل مسئلہ حکومت کی تبدیلی ہے ۔ کسی ملک کی حکومت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو کسی دوسرے ملک کو طاقت کے بل بوتے پر اسے تبدیل کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ اگر یہی معیار ہو تو دنیا میں 50 سے ز یادہ ایسے ممالک ہیں جہاں موجودہ حکومتوں کو تبدیل کیا جانا چاہئے اور یہ ایسے ملک ہیں جہاں آمر حکمرانوں کی حکمرانی ہے اور ان ملکوں کے امریکہ کے ساتھ دوستانہ خوشگوار تعلقات ہیں ۔ جنوری 2025 میں امریکہ نے اسرا ئیل کے ا کسانے پر Midnight hammer نامی فوجی کارروائی کی تھی اور 12 دن بعد دعویٰ کیا کہ ایران کی اہم جوہری افزودگی کی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہیں۔ اگر امریکہ کا وہ دعویٰ درست تھا تو پھر ایران جوہری ہتھیار افزدوہ یورانیم کس طرح جمع کرسکتا تھا جو امریکہ کیلئے خطرہ بنتا ؟ مزید یہ کہ عمان نے جو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر رہا تھا، واضح طور پر کہا تھا کہ ایران نے افزودہ یورانیم ذخیرہ نہ کرنے اور کبھی بھی جوہری بم حاصل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ دوسری جانب روسی وزیر خاجہ سرگئی لاروف نے ایک اہم سوال اٹھایا اور پوچھا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کا ثبوت کہاں ہے ؟ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض ان جنگوں کی طرح جو امریکہ نے ماضی میں مسلط کی تھیں۔ ایران کے خلاف جنگ بھی جھوٹ کی بنیاد پر شروع کی گئی ۔ جہاں تک اسرائیل کا سوال ہے اسرائیل ایران کا کٹر دشمن ہے اور ایران بھی اسرائیل کا سخت دشمن ہے ۔ اسرائیل نے امریکہ کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ ایران میں حکومت تبدیل کی جائے اور ایران کو ایک ایسا ملک بنایا جائے جو اسرائیل اور امریکہ کے تابعدار ہو۔
ہندوستان کا موقف ہوا کمزور: سارے خطہ میں ہندوستان کے انسانی معاشی اور سیاسی مفادات نہایت اہم ہیں لیکن خطہ میں بڑھتے ہوئے تشدد و تباہی کے درمیان ہندوستان تنہا ہوگیا ہے ۔ ایران نے اردن ، کویت ، بحرین ، قطر ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ مشرق وسطی میں 10 ملین ہندوستانی برسر روزگار ہیں۔ ہندوستان کے تیل کی برآمدات اور دیگر معاشی مفادات بھی اس خطہ سے وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر ایران کی چاہ بہار بندرگاہ میں ہندوستان نے 370 ملین امریکی ڈالرس کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے ، ان تمام مفادات کے باوجود ہندوستان کے پاس نہ کوئی آواز ہے اور نہ ہی کسی قسم کا اثر و رسوخ اور اس کی صرف اور صرف ایک وجہ ہے اور وہ وجہ اسرائیلی مقاصد کو ہندوستان کی غیر اصولی اور غیر مشروط تائید و حمایت ہے۔