ہندوستان میں ایک فیصد خاندان مستقل آمدنی سے محروم

   

بہار ، جھارکھنڈ اور اترپردیش میں ابتر صورتحال، نیتی آیوگ کی رپورٹ میں کئی اہم انکشافات
حیدرآباد ۔11۔ مئی (سیاست نیوز) ملک میں غربت کے خاتمہ کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے کئی اسکیمات کا اعلان کیا گیا۔ شہری اور دیہی علاقوں میں غریبوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے علحدہ ادارے قائم کئے گئے ۔ حکومت کے دعوے بھلے ہی خوش ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں کئی ریاستوں میں غربت کی شرح تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور روزگار کے مواقع ، آمدنی اور معاشی ترقی کے معاملہ میں کافی فرق دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال ہندوستان میں عام آدمی کی آمدنی سے متعلق سروے کیا گیا جس میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ 1.1 فیصد خاندان آج بھی ایسے ہیں جن کی کوئی مستقل آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے ۔ نیتی آیوگ نے بھی معاشی صورتحال کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی ہے ، اس کے مطابق بہار میں سب سے زیادہ 3.8 فیصد خاندان آمدنی کے مستقل ذرائع سے محروم ہیں۔ جھارکھنڈ اور اترپردیش میں انفرادی آمدنی 3.2 فیصد اور 2.9 فیصد درج کی گئی ۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا گیا کہ کیرالا ، ٹاملناڈو ، گجرات اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں میں روزگار اور آمدنی کے مواقع دیگر ریاستوں کے مقابلہ بہتر ہے۔ نیتی آیوگ نے روزگار ، معاشی ترقی اور خوشحالی کے معاملہ میں علاقائی سطح پر صورتحال کو مختلف پایا ہے ۔ علاقہ کے اعتبار سے عوام کی آمدنی اور ذریعہ معاش کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔ تلنگانہ میں 1.2 فیصد خاندان مستقل آمدنی سے محروم ہیں جبکہ آندھراپردیش میں یہ تعداد 1.1 فیصد درج کی گئی ۔ اوسط خاندانوں کی آمدنی کے معاملہ میں بہار ، جھارکھنڈ اور اترپردیش کا شمار ایسی ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں مستقل آمدنی کے کوئی ذرائع موجود نہیں ہیں۔ سطح غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندان عارضی طور پر آمدنی کے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔1/k/m/b