سازش کیخلاف جدوجہد کیلئے قومی سطح پر مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل ، محمد ادیب سابق رکن راجیہ سبھا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔3۔مئی۔(سیاست نیوز) ہندستان میں فاشسٹ فورسیس کی جانب سے ملک کی روح کو قتل کیا جا رہاہے اس کے خلاف ایک مشترکہ لڑائی کی ضرورت ہے اور اس کے لئے قومی سطح پر مشترکہ قیادت کے لئے ایک پلیٹ فارم کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی ۔ جناب محمد ادیب سابق رکن راجیہ سبھا نے ذرائع کے ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ملک کے دستور کے بغیر مسلمانوں کا کوئی وجود نہیں ہے اسی لئے اس جدوجہد کو محض مسلمانوں سے مربوط نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ ملک میں دستور کی روح کو قتل کرنے کی کوششوں کے خلاف یہ محاذ تیار کیا جا رہا ہے جو کہ ملک کے آئینی بنیادوں کو مستحکم بنانے کے علاوہ کسی ایک کی قیادت کے بجائے مشترکہ قیاد ت کے اصولوں پر کاربند رہے گا۔انہو ںنے بتایا کہ ہندستان میں مسلمانوں نے رہنے کا فیصلہ ہی اس لئے کیا تھا کیونکہ یہ سب کا ملک ہے اگر ہندستان پہلے ہی ہندو راشٹر ہوتا تو مسلمان یہاں رہتا ہی نہیں لیکن ہندستان ہندو راشٹر نہیں ہے بلکہ یہ سب کا ملک ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو رہنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا اختیار ملک کے دستور نے دیا ہے۔محمد ادیب نے کہا کہ اس ملک کے آئین نے ہمیں یہاں رہنے کا حوصلہ دیا ہے اور اس ملک کے لئے مسلمانوں نے اپنے خون کی قربانی دی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ہمیں مسلم ملک میں جانے کا اختیار حاصل تھا لیکن ہم نے مسلم ملک کو مسترد کردیا اور یہاں رہنے کو ترجیح دی کیونکہ ہمارے آئین میں ہمیں مکمل دستوری حقوق فراہم کرنے کا تیقن دیا گیا تھا اور اسی آئین کے تحفظ کے لئے ہم نے نشست منعقد کی تھی اور ملک بھر سے 382 افراد نے دہلی سے باہر سے شرکت کی ہے۔ ملک کو ہندو راشٹر بنانے یا سیول کوڈ کے نفاذ سے حکومت کو روکنے کیلئے ہندستان کے غیور مسلمان سر جوڑکر بیٹھے تھے۔ جناب محمد ادیب نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہندستانی مسلمان خوفزدہ ہوچکا ہے اس طبقہ کو اب یہ جان لینا چاہئے کہ یہ قوم اب جاگ چکی ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کے ذرائع ابلاغ کے ادارہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان اب بھی نہیں جاگتے ہیں تو کچھ بھی بچ نہیں پائے گا۔انہوں نے کہا کہ جو کامن سیول کوڈ بنانے کی بات کر رہے ہیں ان کو پہلے اپنے کوڈ کے متعلق جانکاری حاصل کرنی چاہئے کیونکہ ہر علاقہ کے اعتبار سے ان کی تہذیب تبدیل ہوتی ہے اور وہ اب کامن سیول کوڈ کی بات کر رہے ہیں۔انہو ںنے کہا کہ ہندو طبقہ میں جو لوگ احساس کمتری کا شکار ہیں وہ اس طرح کی شرانگیزی کر رہے ہیںکیونکہ سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ ہندوازم کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ ایک تہذیب ہے‘ خود بھاگوت اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں تو انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ ان کا اپنا سیول کوڈ کیا ہے وہ دوسروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ اللہ کا کرم ہے کہ مسلمانوں کے ہر طبقہ سے اس پلیٹ فارم میں نمائندگی موجود ہوگی اور جو لوگ اپنے علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں وہ کوآرڈینٹر ہوں گے۔ جناب محمد ادیب نے کہا کہ ہمارا مسلم تنظیموں سے کوئی اچھا تجربہ نہیں ہے اسی لئے ایک مشترکہ قیادت کے پلیٹ فارم کی تشکیل کی کوشش کی جا رہی ہے اور تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں نے جو اس اجلاس میں شرکت کی ہے وہ دراصل تنظیم کی نمائندگی کی حیثیت سے نہیں بلکہ انفرادی حیثیت سے اجلاس میں شریک رہے ہیں۔م