حیدرآباد ،30 جون (ایجنسیز) زیادہ تر لوگ فلمیں دیکھنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم او ٹی ٹی کے اس دور میں بہت سے لوگ سینما گھروں میں فلمیں دیکھنے کے بجائے گھر پر ہی فلموں سے لطف اندوز ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب سنیما گھروں کے باہر لوگوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی تھیں اور فلم کی ریلیز کے لیے جمعہ کے دن کا انتظارکیا جاتا تھا لیکن اب یہ منظر نامہ بالکل بدل چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ سنیما گھروں کی کم ہوتی تعداد ہے۔ ملٹی پلیکس کلچر، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، مہنگے ٹکٹ، بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات، اور مداحوں کی کم ہوتی تعداد نے ملک بھر میں ہزاروں سینما گھر بند کردیے ہیں۔ایسی بہت سی فلمیں ہیں چاہے وہ بالی ووڈ ہوں یا دوسری زبانوں کی جو چین اور امریکہ جیسے بیرونی ممالک میں ہندوستان کے مقابلے بہترکمائی کرتی ہیں۔ کئی فلمی ستاروں نے بالی ووڈ کو ہونے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بھر میں کم سنیما گھروں کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ ڈیٹا اس کی وضاحت کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، 1990 کی دہائی میں، ہندوستان میں تقریباً 25 ہزار سنگل اسکرین تھیٹر تھے، لیکن اب 20 ہزار سے زیادہ بند ہو چکے ہیں باقی زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ادھر مرکزی حکومت نے ہندوستانی سنیما کو ایک نئی سمت دینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ حکومت نے ملک بھر میں سنیما گھرکھولنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے یکساں سنیما قوانین ریاستوں کو بھیجے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک فلم کو مثال کے طور پر لیتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی۔ اس ویڈیو میں کچھ چینی لوگوں سے عامر خان کی فلم دنگل کے بارے میں پوچھا گیا اور وہ اس سے لاعلم تھے۔ تاہم حیران کن طور پر اس فلم نے چین میں خاصی کمائی کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین میں ایک بڑی تعداد میں تھیٹر ہیں، جو فلم کی کمائی کو نمایاں طور پر فائدہ دیتے ہیں۔ چین میں 80,000 سے زیادہ تھیٹر ہیں۔ چنانچہ اگر وہاں کی فلموں کی کمائی کا موازنہ کیا جائے تو وہ ہمیشہ ہندوستانی فلموں سے زیادہہوتا ہے۔