نئی دہلی۔ امریکی الیکٹرک کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے بانی اور سی ای او ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹیسلا کو ہندوستان میں اپنی کاریں فروخت کرنے کی اجازت ملنے کے بعد ہی اسے مقامی طور پر تیار کرنے کا سوچا جائے گا لیکن اس سے پہلے اس کیا تیاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعد میں اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ٹیسلا کی جانب سیہندوستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کے امکان کے بارے میں ٹوئٹر پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسک نے کہا، ٹیسلا اپنا مینوفیکچرنگ پلانٹ کسی ایسی جگہ نہیں لگائے گا جہاں اسے پہلے اپنی کاریں فروخت کرنے اور سروس کرنے کی اجازت نہ ہو۔ مسک کایہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری نے ٹیسلا سے کہا تھا کہ وہ ہندوستان میں بنی کاروں کی فروخت کی اجازت دے۔ گڈکری نے اپریل میں کہا تھا کہ اگر ٹیسلا ہندوستان میں اپنی الیکٹرک کاریں بنانے کے لیے تیار ہے تو وہ اسے یہاں فروخت کر سکتی ہے۔درحقیقت ہندوستان بیرون ملک بنی گاڑیوں کی درآمد پر بھاری ڈیوٹی لگاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ٹیسلا نے اس درآمدی ڈیوٹی میں کمی کا مطالبہ کیا تھا۔مسک نے گزشتہ سال اگست میں کہا تھا کہ ٹیسلا اپنی گاڑیاں ہندوستان میں فروخت کرنا چاہتی ہے لیکن اس پر زیادہ درآمدی ڈیوٹی عائد ہے۔