آزادی کے 80 سال، تلنگانہ کی غیردانشمندانہ حکمرانی سے ریاست کو شدید نقصان
حیدرآباد۔15۔اگسٹ(سیاست نیوز) آزادی کے 80 سال گذرنے کے باوجود ملک کے 150کروڑ آبادی کا بڑا حصہ آزادی کے ثمرات کے حصول سے محروم ہے اور تلنگانہ میں غیر دانشمندانہ حکمرانی کے نتیجہ میں ریاست کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کارگذار صدر بی آر ایس مسٹر کے ٹی راما راؤ نے ’’تلنگانہ بھون‘‘ میں منعقدہ جشن آزادی تقریب میں حصہ لینے اور پرچم کشائی کے بعد موجود قائدین اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد تلنگانہ کی ترقی کے لئے بی آر ایس حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں ان اقدامات کے نتیجہ میں ریاست ملک کی ان سرفہرست ریاستوں میں شامل ہوچکی تھی جو تیزی کے ساتھ ترقی کررہی تھیں۔ کے ٹی راما راؤ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ملک میں 150 کروڑ کی آبادی جو کہ مختلف تہذیب و تمدن کے علاوہ رنگ و نسل سے تعلق رکھتی ہے لیکن وطنیت انہیں ایک اور متحد بناتی ہے ۔ انہوں نے چین کی گذشتہ 40 سال کے دوران ہونے والی ترقی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین نے جس طرح کے اقدامات کئے ہیں وہ ہندستان میں بھی ممکن تھے کیونکہ چین کی 40 سالہ ترقی کا دور ہمارے سامنے ہے ۔ انہوں نے ہندستان کو ترقی پذیر ممالک میں شمارکئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 8دہائیوں کے دوران جس انداز کی ترقی کی ہندستان کو ضرورت تھی وہ اقدامات نہیں کئے گئے لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد کے سی آر کی دوراندیش حکومت نے اپنی ریاست کو ترقی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں آج علحدہ ریاست تلنگانہ کی مخالفت کرنے والے چیف منسٹر اقتدار پر ہیں ۔ کارگذار صدر بی آر ایس مسٹر کے ٹی راما راؤ نے کلیان لکشمی اسکیم اور شادی مبارک معاملہ میں عدالت کے حکم التواء پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت فلاحی اسکیمات کے سلسلہ میں عدالت میں دائر کی گئی درخواست پر جوابی حلف نامہ داخل کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔ انہوں نے اس ناکامی کو ریاستی حکومت کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں فلاحی سرگرمیوں کو بتدریج کم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ جشن آزادی کی اس تقریب کے دوران ’تلنگانہ بھون‘ میں خدمات انجام دینے والے 26 ملازمین کو کے ٹی راما راؤ نے تہنیت پیش کرتے ہوئے انہیں 5لاکھ روپئے فی کس کے چیکس حوالہ کئے اور کہا کہ ’تلنگانہ بھون‘ کی عمارت کی تعمیر کو 20 سال مکمل ہوچکے ہیں اور یہ عمارت تلنگانہ عوام کی عزت نفس کی علامت کے طور پر دیکھی جانے لگی ہے۔ انہوںنے مجاہدین آزادی و شہدائے تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے حصول کے لئے جن لوگوں نے قربانی دی ہے ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی طرح جدوجہد آزادی کے دوران بھی ہزاروں افراد نے اپنی زندگیوں کو قربان کرتے ہوئے ہندستانی عوام کو آزادی دلوائی اور تاریخ میں ان کے نام رقم ہوچکے ہیں۔ کے ٹی راما راؤ نے ریاست میں عوامی مفادات کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے بی آر ایس کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس ہر محاذ پر عوام کے ساتھ شانہ بشانہ ہر جدوجہد میں کھڑی رہے گی۔H/M/3