ہندوستان کے مستقبل کےپانچ رجحانات

   

پی چدمبرم
(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس)

ہندوستان کے سماجی اور سیاسی رجحانات ہمارے لئے بہت زیادہ اہمیت و افادیت رکھتے ہیں اور راقم الحروف نے کئی برسوں سے ہندوستان کے سماجی اور سیاسی رجحانات کا بغور مشاہدہ کیا ہے اور جو چیز مجھے آج بہت گرائی تک پیوست اور مستقل دکھائی دیتی ہے ، ضروری نہیں کہ وہ واقعی ایسی ہی ہو ، ممکن ہے وہ صرف ایک عارضی بادل کی مانند ہو۔ کیوں کہ بادل کی خصوصیات میں شامل ہے کہ وہ برستے بھی ہیں اور چمٹ بھی جاتے ہیں ۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ عارضی بادل خوشگوار بارش تو برساسکتے ہیں ، تاہم وہ موسم کی مستقل خصوصیات نہیں ہوتے۔ اگر دیکھا جائے تو 1947 ملک کی تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ تھا کیونکہ جب ہمارا ملک آزاد ہو اس کے بعد بہت سے نمایاں اثرات اور رجحانات منظر عام پر آئے لیکن وہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے جبکہ ابتدائی رجحانات جن پر زیادہ لوگوں نے توجہ نہیں دی ۔ وقت کے ساتھ مستقل حقیقت بن گئے ۔ مثال کے طور پر گاندھی جی کو جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی تھی ، ان کی غیر معمولی مقبولیت اور ان کے بے شمار چاہنے والوں باالفاظ دیگر پیروکاروں کے باوجود گاندھیائی طرز حیات اہنسا یا عدم تشدد ، نیتہ گری ، چیاریٹی (خیرات) اور سیول نافرمانی گاندھی جی کے امر ہونے کے چند دہوں بعد پھیکے پڑگئے ۔ دوسری جانب بہت کم لوگوں نے ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی شہری آبادی ، موسمی تبدیلی اور انسان ، سائنس و ٹکنالوجی کے پیچیدہ تعلق کو بروقت سمجھنے میں کامیابی حاصل کی ۔ آپ نے اور ہم نے ہمیشہ ایک مشہور قول سنا ہے کہ پیشن گوئی کرنا بہت مشکل عمل ہے اور خاص طورپر جب وہ پیشن گوئی مستقبل کے بارے میں ہو (آپ کو بتادوں کہ راقم الحروف نے سلور بالا میں جس قول کا حوالہ دیا وہ نوبل لاریٹ نیلس بوہر اور بیس بال کے افسانوی کھلاڑی Yogi Bersu سے منسوب ہے) اس کے باوجود راقم ہمت و جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل کے بارے میں اپنی رائے پیش کر رہا ہے ۔ میرے اپنے مشاہدہ کے مطابق 5 ایسے رجحانات ہیں جو آئندہ مزید مستحکم ہوں گے اگرچہ ان میں سے یعنی راقم الحروف کو پسند نہیں ہیں اور ان سے خدشات بھی ہیں لیکن یہ رجحانات بظاہر روکنے کے قابل چند نہیں دکھائی دیتے۔
عوام کی حکومت کے طور پر جمہوریت کا زوال ، جمہوریت عوام کی خصوصیت ہوتی ہے چونکہ عوام آزاد ہوئے ہیں اور انہیں کئی آزادیوں کے حقوق حاصل ہیں۔ ایک جمہوری حکومت ایک ایسی حکومت ہے جو عوام کے حقوق کا احترام ان کی پاسداری اور ان کا لحاظ رکھے اور ایسے آزاد ادارے قائم کرے جو ان حقوق کی حفاظت اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں ۔ فریڈم ہاؤس وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ اور رپورٹ وتھاوٹ بارڈرس جیسے تحقیقی ادارے مختلف اشاروں کی بنیاد پر مختلف ملکوں کو آزاد یا غیر آزاد با الفاظ دیگر آزادی سے محروم قرار دیتے ہیں۔ اور اکثر زیادہ سے زیادہ ملکوں کے اسکور میں کمی دیکھی جاتی ہے یعنی ان کی رینکنگ بہت خراب ہوتی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سال 2005 میں ہندوستان کا اسکور 77 تھا جو کم ہوکر 63 اور 67 کے درمیان آگیا ہے ۔ ا س بات کا امکان ہے کہ ہندوستان صرف ایک انتخابی جمہوریت بن کر رہ جائے جہاں انتخابات ماضی کی بہ نسبت کم آزاد اور کم منصفانہ ہوں ویسے بھی اپوزیشن جماعتیں مسلسل اس بات کا الزام عائد کر رہی ہیں کہ ہمارے ملک میں انتخابات کا آزادانہ اور صاف و شفاف انعقاد عمل میں نہیں آرہا ہے ۔ بہرحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی عوام فلاحی منصوبوں بہتر انفراسٹرکچر اور مضبوط سماجی نظم کے بدلے آزادی کے اشاریوں میں کمی پر زیادہ پریشان نہیں ہیں ۔ ہمارے مقابلہ چین کا اسکور کئی برسوں سے 100 میں سے9 پر برقرارر ہے لیکن مختلف رپورٹس کے مطابق چینی عوام خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں ، ممکن ہے ہندوستانی عوام بھی اسی راہ پر گامزن ہوں۔ اب بات کرتے ہیں اجارہ داری بمقابلہ صنعت کاروں کے بارے میں معیشت کے کئی شعبہ پہلے ہی دو یا چند بڑی کمپنیوں کے غلبہ میں آچکے ہیں جن میں فضائی سفر ، مواصلات ، سمنٹ، فولاد ، بجلی ، دواسازی ، پٹرولیم ، دفاعی پیداوار ، کانکنی اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔ مستقبل میں مزید شعبہ بھی اس سمت جاسکتے ہیں۔
داخلی ہجرت، شناختوں کو الوداع: اکثر بڑے شہر کاسمو پالیٹن بن گئے ہیں جہاں مختلف زبانوں کے بولنے والے ، مختلف مذاہب کے ماننے والے ، مختلف تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والے اور مختلف پکوان سے مخطوط ہونے والے رہتے ہیں اور کئی ٹاؤنس کا بھی یہی حال ہے ۔ ایک بات ضرور ہے کہ ہمارے ملک میں شہر پانے کا عمل اور بڑے پیمانہ پر لوگوں کی داخلی ہجرت بڑی تیزی سے طئے پارہا ہے اور یہ ایسا رجحان ہے جو ہندوستان میں بڑی گہرائی سے پیوست ہورہا ہے ۔ ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی شخص ایک جگہ سے تعلق نہیں رکھتا۔ آبائی مقام نہیں رکھتا اور لوگ ایک مشترکہ خاندانی نظام کی طرح یہ تصور بھی آہستہ آہستہ ختم ہوسکتا ہے ۔ زیادہ تر لوگ اپنی زندگی میں اجنبی افراد سے ملیں گے ۔ دوستوں کا دائرہ محدود ہوتا جائے گا اور تعلقات زیادہ تر ڈیجیٹل آلات کے ذریعہ قائم ہوں گے ۔ بات چیت بھی مشینوں کے ذریعہ ہونے لگے گی۔ یہ تصور کہ کوئی انسان تنہا جزیرہ نہیں شائد غلط ثابت ہوجائے ۔ انسانوں کے باہمی تعلقات جذبات کی بجائے لین دین پر مبنی ہوتے جائیں گے۔ جنسی تعلقات شائد باقی رہیں کیونکہ یہ صرف بنی نوع انسان کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ سائنس اور فرضی سائنس کو الگ کرنے والی لائن یا خط غائب ہوجائے گی جیسا کہ مسٹر واسو دیون مکنتھ نے لکھا (دی ہندو مورخہ 23 جون 2026) ہے کہ تعلیمی شعبہ سے جڑے حکام سائنس کو پرانک سائنس اور میتھالوجی کو تاریخ کے طور پر پیش کریں گے جبکہ ان کا کمال یہ ہوگا کہ وہ رسومات کو ٹکنالوجی بتائیں گے ۔ زیادہ سے زیادہ آئی آئی ٹیز میتھالوجیکل کہانیوں کی تحقیق کریں گے ۔ غرض اوقار کے تصور اور ویدک آئیڈیالوجی تہذیبی احیاء وغیرہ پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کریں گے ۔ یہاں تک کہ ان کی کوشش مندروں کی تعمیر نو اور ہندو تہواروں کو تزک و احتشام سے منانا ہوگی۔ گوشت کی دکانات ہوسکتا ہے کہ کئی شہروں میں بند کردی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال کی پالیسی اپناتے ہوئے دوسری ریاستیں بھی مڈ ڈے میل اسکیم سے انڈہ نکال دیں گی ۔ ملک کی اکثر ریاستوں میں یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے گا ۔ ہندوتوا ایجنڈہ کے خلاف مزاحمت ختم کردی جائے گی ۔ زیادہ سے زیادہ بچے اور بڑے صرف ایک زبان میں بات کریں گے ۔ ایک زبان میں ہی لکھیں گے پڑھیں گے اور وہ زبان ہندی ہے ۔ اقلیتیں اور لسانی اقلیتیں خوف میں زندگی گزاریں گے جبکہ امیر اور غریب کے درمیان تفاوت بڑھتا جائے گا۔