ہندوستان کے 105 سالہ ووٹر نے ہماچل میں ووٹ ڈالا

   

شملہ: شیام سرن نیگی، جنہیں ہندوستان کا پہلا ووٹر سمجھا جاتا ہے انہوں نے چہارشنبہ کو ہماچل پردیش کے کنور اسمبلی حلقہ میں اپنا ووٹ 105 سال کی عمر میں ڈالا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق نیگی نے 1951-52 کے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا، جو ملک کے پہلے انتخابات تھے۔نیگی نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے بعد ریاستی دارالحکومت سے تقریباً 275 کلومیٹر دور کلپا میں کہا کہ میں نے 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد سے کبھی بھی اپنا ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں گنوایا اور میں اس بار بھی ووٹ ڈال کر خوش ہوں۔ پچھلے سال بھی انہوں نے منڈی پارلیمانی ضمنی انتخاب کیلئے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔ انتخابی عہدیداروں نے بتایا کہ پہلے مواقع پر نیگی ووٹ ڈالنے کیلئے قریبی پولنگ اسٹیشن گئے تھے۔ اس بار الیکشن کمیشن نے 80 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کیلئے اپنی رہائش گاہ پر بیلٹ پیپر پر ووٹ ڈالنے کیلئے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ انہوں نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی سیاہی لگی جھریوں والی انگلی کو دکھایا۔پچھلے مواقع کی طرح صد سالہ نے نوجوان ووٹروں سے درخواست کی کہ وہ اپنے نمائندوں کو اقتدار میں لانے کیلئے جمہوری مشق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔جمہوریت میں پختہ یقین رکھنے والا صد سالہ شخص کسی بھی الیکشن میں اپنا ووٹ ڈالنے میں کبھی ناکام نہیں ہوتے، چاہے وہ لوک سبھا ہو، اسمبلی ہو یا پنچایت کے انتخابات ہوں۔1951 میں نیگی ایک سبکدوش اسکول ٹیچر الیکشن ڈیوٹی پر تھے اور انہوں نے چنی حلقے میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا، بعد میں اس کا نام کنور رکھ دیا گیا۔اس وقت پہاڑی ریاست کے برفانی علاقوں میں ووٹنگ ملک کے دیگر مقامات کے مقابلے میں مشکل ہوتی تھی۔