ہیرا گولڈ اسکینڈل:ہیرا گروپ کی سی ای او نوہیرا شیخ گرفتار

   

حیدرآباد پولیس نے فرید آباد سے حراست میں لیا
حیدرآباد ۔ 28 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) ۔ حیدرآباد پولیس نے معروف ہیرا گولڈ فراڈ کیس کی مرکزی ملزمہ نوہیرا شیخ کو فرید آباد، ہریانہ سے گرفتار کر لیا ہے۔ سینٹرل کرائم اسٹیشن ( سی سی ایس ) کی ٹیم نے طویل نگرانی کے بعد ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور انہیں سورج کنڈ، فرید آباد سے حراست میں لیا۔رپورٹس کے مطابق نوہیرا شیخ کے خلاف حیدرآباد میں 2018 سے تین الگ الگ مقدمات میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔ ان وارنٹس کی تعمیل کے لیے پولیس مسلسل ان کی تلاش میں تھی۔اکتوبر 2024 میں سپریم کورٹ نے نوہیرا شیخ کی ضمانت منسوخ کر دی تھی، جب وہ مقامی عدالت کے سامنے پیش ہونے میں ناکام رہیں۔ اس کے بعد سے حکام ان کی نگرانی کر رہے تھے تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ہیرا گولڈ اسکینڈل، جس میں ہزاروں سرمایہ کاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا، حیدرآباد کی تاریخ کے سب سے بڑے مالی دھوکہ دہی کے کیسیس میں شمار ہوتا ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیاں متاثرین کو انصاف دلانے اور سرمایہ کی واپسی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔نوہیرا شیخ کی گرفتاری سے اس معاملے میں نئی پیش رفت متوقع ہے، ہیرا گولڈ اسکینڈل کو حیدرآباد کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی فراڈز میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں ہزاروں سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا گیا تھا۔ اس کیس میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے اور حکام رقوم کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

ہیرا گروپ نے سرمایہ کاروں کو ماہانہ 36 فیصد اور سالانہ 80 فیصد منافع دینے کا جھانسہ دیا تھا۔ ہیرا گولڈ، ہیرا ٹیکسٹائلز اور ہیرا فوڈیکس جیسے ادارے استعمال کیے گئے۔ 2018 میں ادائیگیاں اچانک بند کر دی گئیں، جس سے لاکھوں سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔متعدد گلف رہائشی جنہوں نے ہیرا اسکیموں میں سرمایہ کاری کی، اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کھو بیٹھے۔ کئی افراد نے قرضے لے کر سرمایہ کاری کی تھی، جنہیں وہ آج تک چکانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔نوہیرا شیخ کی پہلی گرفتاری 2018 میں ہوئی تھی لیکن بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف متعدد کیسیس درج ہوئے، اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 124 جائیدادیں ضبط کر لیں، جن میں 28 حالیہ مہینوں میں اٹیچ کی گئیں۔ ش