ہیٹی میں تشدد کے واقعات میں 90افراد ہلا ک ، 74 زخمی

   

پورٹ اوپرنس : لاطینی امریکہ کے پسماندہ ملک ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ اوپرنس میں تشدد کے مختلف واقعات میں ایک ہفتہ کے دوران کم سے کم 90 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اے ایف پی نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کا سلسلہ سات روز قبل سائٹ لولیل نامی نواحی علاقے میں دو گیگنز کے درمیان کشیدگی کے باعث شروع ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جلد ہی دونوں گروہوں میں فائرنگ کے واقعات ہونے لگے تاہم سٹاف اور سازوسامان کی کمی کا شکار پولیس ان کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکی تاہم بین الاقوامی امدادی ادارے نے متاثرین کو خوراک اور ادویات کی فراہمی کے لیے کوششیں کیں۔چار دہائیوں سے کچی آبادیوں میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کے افراد گولیوں کی زد میں آئے اور ان کے پاس سوائے گھروں میں چھپنے کے کوئی راستہ نہیں بچا یہاں تک کہ پانی اور خوراک کے لیے بھی باہر نہ نکل سکے۔امدادی ادارے کے مطابق تشدد کے واقعات میں کم از کم 90 افراد ہلاک اور 74 گولیاں یا چھریاں لگنے سے زخمی ہوئے جبکہ 16 افراد لاپتا ہیں۔مقامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے سربراہ مموزا موہندو نے متحارب گروہوں پر زور دیا تھا کہ سائٹ سولیل کے علاقے بروکلن میں ادویات اور علاج کا دوسرا سامان جانے دیں، یہ علاقہ تشدد کے واقعات میں سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔موہندو کا کہنا تھا کہ خطرات کے باوجود ان کی تنظیم جمعہ سے اب تک 15 زخمیوں کا علاج کر چکی ہے۔ان کے مطابق ہمارے ساتھیوں نے سڑکوں کے کناروں پر جلی ہوئی لاشیں دیکھی ہیں ۔