یورپی یونین کی روسیوں پر ویزے کی سخت پابندیاں

   

برسلز: یوروپی یونین نے جمعہ کو روسیوں کے لئے ویزیکی ایسی سخت شرائط عائد کی ہیں جو انسانی ہمدردی سے متعلق امور کے علاوہ ان کے لئے بلاک کے ملکوں میں داخلے کو مشکل اور کچھ صورتوں میں ناممکن بنا دیں گی۔یہ اقدام ایسے میں کیا گیا ہے جب ہزاروں افراد روس سے فرار ہو کر ، خاص طور پر ،یورپی یونین سے باہر کے ہمسایہ ملکوں میں چلے گئے ہیں۔ وہ صدر ولادیمیر پوٹن کے حکم پر فوج میں بھرتی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی کمیشن کی طرف سیجاری کردہ تازہ ترین ہدایات کے تحت مختصر قیام کے شینگن ویزوں کے لیے درخواست دینے والے روسیوں کو کہیں زیادہ سخت جانچ پڑتال اور طویل تاخیر کا سامنا ہوگا۔ یورپی سرحدی محافظوں کو بھی اس سیپہلے جاری کیے جانے والے ویزوں پر نظر ثانی اور تازہ جائزے کے بعد انہیں مسترد یا منسوخ کرنے کا اختیار ہوگا۔ یہ تبدیلیاں روس کی سرحد پر واقع یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرف سے روسیوں کے لئے ویزا پر مکمل پابندی لگانے کیمطالبات کے بعد کی گئی ہیں۔ فن لینڈ نے جمعہ سے اپنی سرحد کو مختصر قیام کے شینگن ویزے رکھنے والے روسیوں کے لیے بند کر دیا۔ شینگن ویزے عام طور پر 26یورپی ممالک میں سے کسی میں بھی تین ماہ تک قیام کے لیے، سیاحت کے مقاصد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، جو پاسپورٹ فری زون کہلاتے ہیں۔
یورپی یونین کی داخلہ امور کی کمشنر یلوا جوہانسن نے صحافیوں کو بتایا کہ تازہ ترین اقدام ایک ایسے وقت میں ہمیں درپیش سلامتی کے خطرہ کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے جب روس یوکرین کے خلاف، جسے یورپی یونین کی بھرپور حمایت حاصل ہے، اپنی جنگ کو تیز کر رہا ہے۔ یلوا جانسن نے کہا یورپی یونین اپنی اور اپنے شہریوں کی حفاظت کرے گی،کیونکہ ان کی سلامتی کو ایک حقیقی خطرہ ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ یورپی یونین نے پہلے ہی روس کے ساتھ ویزوں کے اجرا کی سہولت کے معاہدہ کو روک دیا ہے، اور ان روسی عہدہ داروں اور شخصیات کو ویزا جاری کرنا بند کر دیا ہے جو یوکرین جنگ میں ملوث سمجھے جاتے ہیں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ شینگن ویزے کے خواہشمند روسیوں کو اپنے رہائشی ملک سے درخواست دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں سفر کی شدید ضرورت کی وجہ بتانی ہے، بصورت دیگر ان کی درخواست کو یورپی یونین کے قونصل خانوں میں کم ترجیح دی جائے گی جہاں ویزا پروسیسنگ کے لیے وسائل پہلے ہی کم کر دئے گئے ہیں۔