یوپی اورراجستھان کے سرکاری اسکولوں میں بیرونی افراد کے داخلہ پر پابندی

   

معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

نئی دہلی ۔23؍اگست ( ایجنسیز )سرکاری اسکولوں میں بیرونی افراد کے داخلہ اور ویڈیو گرافی پر پابندی عائد کرنے والے راجستھان حکومت اور اتر پردیش حکومت کے سرکلر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ وکیل نریندر مشرا کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر کے سرکلر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس عرضی میں مرکزی حکومت اور تمام ریاستوں کو فریق بنایا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومتوں کا یہ حکم آئین کی مختلف دفعات 14 یعنی مساوات، اظہار رائے اور زندگی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔واضح رہے کہ اس سرکلر کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں بیرونی افراد، صحافیوں، یوٹیوبرز، سوشل میڈیا سے وابستہ افراد اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی، انٹرویو، آڈیو ریکارڈنگ اور لائیو اسٹریمنگ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ 16 اگست کو راجستھان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں بیرونی افراد (جن میں میڈیا اہلکار بھی شامل ہیں) کے داخلے کو منظم کرنے کیلئے نئی گائیڈ لائنز جاری کی گئی تھیں۔ ان ہدایات کے تحت ان کاموں کیلئے اسکول کے پرنسپل یا ادارے کے سربراہ سے پہلے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ حکم کے مطابق بیرونی افراد کو کلاس روم، لیبارٹری، لائبریری، ہاسٹل، کھیل کے میدان، ریسٹ روم یا ان دیگر علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی جہاں طلبہ کی سرگرمیاں جاری ہوں، جب تک کہ ان کے ساتھ پرنسپل، کوئی استاد یا اسکول کا کوئی دیگر مجاز افسر موجود نہ ہو۔