لوگ ویڈیو بنا رہے تھے، عصمت ریزی کیلئے اغواء کا شبہ
قنوج:: اترپردیش کے قنوج سے دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اتوار کو یہاں گورسہائی گنج میں ایک 12 سالہ معذور لڑکی درد سے کراہ رہی تھی اور لوگ اس کی مدد کرنے کے بجائے ویڈیو بنا رہے تھے۔بعد میں کسی طرح گھر والوں کو لڑکی کے بارے میں پتہ چلا۔ پھر اس نے پولیس کو اطلاع دی۔ چوکی انچارج منوج پانڈے موقع پر پہنچ گئے۔ اس نے بچی کو گود میں اٹھایا اور سڑک کی طرف دوڑ پڑے۔ اس کے بعد راستے میں ایک آٹو کو روک کر لڑکی کو ہاسپٹل لے گئے۔واقعہ کے 16 گھنٹے بعد بھی بچی کی حالت جوں کی توں ہے۔ وہ نہ بول سکتی ہے اور نہ گھر والے کچھ کہہ پاتے ہیں۔ لواحقین نے یہ ضرور کہا ہے کہ ان کے بچی کا اغوا کیا گیا تھا۔ گورسہائی گنج کے علاقہ میں رہنے والی ایک 12 سالہ لڑکی اتوار کی دوپہر 12 بجے کے قریب مٹی کا پگی بینک خریدنے بازار گئی۔ اسی دوران کسی نے اسے لالچ دے کر اغوا کر لیا۔ معصوم بچی شام میں خون میں لت پت پڑی ملی۔ پولیس نے لڑکی کو گورسہائی گنج کے ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں داخل کرایا۔ جہاں رات بھر اس کا علاج جاری رہا۔صبح 9 بجے لڑکی کے ماموں نے میڈیا کو بتایا کہ اسے صرف عصمت دری کیلئے اغوا کیا گیا تھا۔ بچی کے احتجاج کرنے پر اس پر حملہ ہوا ہوگا جس کی وجہ سے وہ بری طرح زخمی ہوگیا۔ ظالم لڑکی کو مردہ سمجھ کر کسی ویران جگہ پر پھینک کر فرار ہو گئے ہوں گے۔
کوتوالی انچارج راجکمار سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے لڑکی کے گھر سے بازار اور ڈاک بنگلہ گیسٹ ہاؤس تک کی سڑکوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا ہے۔ اس دوران ایک سی سی ٹی وی میں متاثرہ لڑکی ایک نوجوان کے ساتھ بات کرتی نظر آرہی ہے۔ فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نوجوان کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔پولس نے کہا کہ تمام زاویوں سے جانچ کی جائے گی،کوتوالی انچارج راجکمار سنگھ نے بتایا کہ لڑکی سے بات کرنے والا نوجوان پہلی نظر میں اسے پہچانا لگتا ہے۔ پولیس تمام زاویوں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ تاہم اس نے عصمت دری کے واقعے سے انکار نہیں کیا۔