حیدرآباد۔24فروری(یو این آئی) یوکرین میں جنگ شروع ہوچکی ہے اور آندھرا پردیش کے تقریبا 300طلبا اس یہاں پھنس گئے ہیں جو وہاں ایم بی بی ایس، انجینئرنگ اور دیگر کورسس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔چند دن قبل ہندوستانی سفارت خانہ نے اپنے شہریوں سے خواہش کی تھی کہ وہ عارضی طورپر یوکرین چھوڑدیں تاہم بعض طلبہ یوکرین نہیں چھوڑ سکے کیونکہ فضائی کرایہ مہنگا کردیا گیا تھا اور 70ہزار روپئے لیاجارہا ہے ۔ ایک طالب علم نے کہا کہ کئی طلبہ مالی بحران کے شکار ہیں۔ایسی صورتحال میں وہ ہندوستان واپس آنا چاہتے ہیں اور فکر مند ہیں کیونکہ صورتحال بدترہوتی جارہی ہے ۔ایرانڈیا کا طیارہ جو ان طلبہ کو واپس لانے گیا تھا دہلی واپس ہوگیا کیونکہ یوکرین نے فضائی پٹی کو بند کردیا۔اے پی کے بعض طلبہ جنہوں نے ہندوستان روانگی کیلئے فلائٹس بکنگ کی تھی اپنے موجودہ مقامات کو واپس ہونے مجبور ہوگئے کیونکہ روس نے ایرپورٹ پر حملہ کردیا۔ زپورزیشا یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق وطن واپسی کیلئے انہوں نے ٹکٹس بک کئے تھے اور ایک رات کا سفر ایرپورٹ تک کیلئے کیا تھا تاہم ایرپورٹ پر دھماکہ کے بعد صورتحال بدتر ہوگئی۔