روس ۔ یوکرین جنگ میں شدت
کیف : سٹریٹیجک مشرقی صوبے لوہانسک میں یوکرین کے آخری گڑھ لیسی چانسک کے لیے لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ماسکو کے حامی خود ساختہ لوہانسک ریپبلک کے سفیر روڈیون میروشنک نے روسی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’لیسی چانسک پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا لیکن بدقسمتی سے ابھی تک اس کو آزاد نہیں کرایا جا سکا۔‘روسی میڈیا پر لوہانسک کی ملیشیا کو لیسی چانسک کی سڑکوں پر پریڈ اور پرچم لہراتے ہوئے دکھایا گیا تاہم یوکرین کے نیشنل گارڈ کے ترجمان رسلن موزیچک نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ شہر اب بھی ان کے کنٹرول میں ہے ۔یوکرین کا مشرقی شہر لسچانسک اس وقت متضاد دعوؤں کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ روس اور یوکرین دونوں کی افواج کا دعویٰ ہے کہ یہ شہر ان کے کنٹرول میں ہے۔ دوسری طرف یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کی فوجیں روس کی طرف سے شدید شیلنگ کا سامنا کر رہی ہیں تاہم اس کا اصرار ہے کہ روس نے اس شہر پر قبضہ نہیں کیا۔دوسری جانب روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ کامیابی سے شہر میں داخل ہو کر اس کے مرکز تک پہنچ چکے ہیں۔روسی میڈیا کی جانب سے علیحدگی پسندوں کی ویڈیوز دکھائی جا رہی ہیں جو بظاہر شہر کی گلیوں میں مارچ کر رہے ہیں۔روسی ذرائع کی جانب سے بھی ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ٹوئیٹ کی گئی ہیں جن میں مبینہ طور پر روسی جھنڈا شہر کے تباہ شدہ انتظامی مرکز میں لگایا جا رہا ہے۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔یوکرین کے انڈسٹریل ڈنباس کے لوہانسک خطے میں یہ وہ آخری شہر ہے جو اب تک اس کے کنٹرول میں ہے اور اس کا چھن جانا روس کے لیے ایک اور اہم کامیابی تصور ہو گی۔ روس نے گذشتہ مہینے اس کے نواحی شہر سیوردونیتسک پر قبضہ کیا تھا۔لوہانسک کے گورنرسرہئی ہائیڈا نے کہا ہے کہ لسچانسک پر حملہ ہو رہا ہے اور روسی فوجیں محصور شہر میں چاروں جانب سے پہنچ رہی ہیں۔روس میں یوکرین سے عیحدگی کی حامی لوہانسک پیپلز ریپبلک کے سفیر روڈیون میروشنک نے روسی ٹی وی کو بتایا کہ لسچانسک کنٹرول میں ہے تاہم ابھی آزاد نہیں ہوا۔دفاعی امور کے بلاگر روب لی نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں چیچن روسی فوجیوں کو یوکرین کے شہر میں دیکھا جا سکتا ہے۔جب سے روس نے یوکرین پر چڑھائی کی ہے تب سے ہزاروں شہری اور فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ کم ازکم 12 لاکھ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔کیئف نے کہا ہے کہ ماسکو نے مرکزی میدان جنگ سے دور شہروں میں میزائل حملے تیز کر دیے ہیں اور جان بوجھ کر شہری مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ 24 فروری کو روسی حملے کے بعد ہزاروں یوکرینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد شہر بھی تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔اس صورتحال کے جواب میں مغربی ریاستیں یوکرین کو مسلح کر رہی ہیں اور روس، جو کہ جوہری سپر پاور اور عالمی سطح پر توانائی سپلائی کرنے والا ملک ہے، پر غیر معمولی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔متعدد دھماکوں کے نتیجے میں ساحلی شہر اوڈیسہ کی جانب جانے والے راستے پر موجود شہر مائکولیف بھی لرز اٹھا۔روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے یوکرین کی پانچ کمانڈ پوسٹس اور ایمونیشن کے متعدد ذخیروں کو تباہ کر دیا ہے تاہم روسی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔روس پر الزام ہے اس نے ان دھماکوں سے ایک روز پہلے ہی اوڈیسہ کے قریب فلیٹوں پر میزائل حملے کیے جس سے 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔