یو پی :اقتدار کیلئے غنڈہ گردی

   

Ferty9 Clinic

ہم موت کی حدوں میں بھی نغمہ سرا رہے
تم کو دلیلِ عظمتِ انساں کئے ہوئے
یو پی :اقتدار کیلئے غنڈہ گردی
اترپردیش میں ویسے تو قانون کی دھجیاں اڑانے کے بے شمار واقعات اکثر و بیشتر پیش آتے رہتے ہیں۔ کہیں سیاستدانوں کی جانب سے تو کہیں خود پولیس عہدیداروں کی جانب سے ۔ اس سلسلہ میں کئی ویڈیوز ماضی میں منظر عام پر آتے رہے ہیں۔ انتخابات کے وقت تشدد تو تقریبا عام بات ہے ۔ اب جبکہ ریاست میں بلاک پنچایت انتخابات کیلئے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے جا رہے تھے کچھ غنڈہ عناصر نے سماجوادی پارٹی کی ایک خاتون پر حملہ کردیا ۔ اسے امیدوار کی تائید میں پرچے داخل کرنے سے روک دیا اور اتنا ہی نہیں بلکہ سر عام اس خاتون کی ساڑی تک کھینچنے لگا تھے ۔ یہ ویڈیو سوشیل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوگیا جس کے بعد ریاست میں آدتیہ ناتھ کی حکومت نے چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے ۔ یہ سارا کچھ محض عوام کی ناراضگی اور برہمی کو کم کرنے کی کوشش ہے اور آئندہ چند ماہ بعد ان تمام کو بحال بھی کردیا جائیگا ۔ اکثر و بیشتر ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔ تاہم جہاں تک اترپردیش میں نظم و قانون کی صورتحال کا مسئلہ ہے وہ تشویشناک ہی رہی ہے ۔ کہیں ارکان اسمبلی پر لڑکیوں اور خواتین کی عصمت ریزی کا الزام عائد ہوتا ہے تو کہیں ایسے ہی مقدمات میں متاثرین کے رشتہ داروں کو حوالات میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔ کہیں غنڈہ عناصر کی خدمات حاصل کرتے ہوئے مخالفین کو دھمکایا جاتا ہے تو کہیں پولیس والے خود قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ جس وقت سے ریاست میں آدتیہ ناتھ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے خود پولیس پر کئی واقعات میں قانون کی پاسداری کرنے کی بجائے قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کئی افراد کو ٹھکانے لگانے کے الزامات بھی عائد ہوئے ہیں۔ انکاونٹرس کا ایک سلسلہ سا ریاست میں چل پڑا تھا جس میں کئی افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ہے ۔ کل جو واقعہ لکھیم پور کھیری ضلع میں پیش آیا وہ انتہائی شرمناک ہے ۔ ایک خاتون پر غنڈہ عناصر کھلے عام حملہ کرتے ہیں۔ اسے جمہوری عمل میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی ساڑی کھینچی جاتی ہے اور مارپیٹ کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ یہ انتہائی شرمناک اور مذموم فعل ہے ۔
جس خاتون کے ساتھ یہ بدسلوکی کی گئی وہ سماجوادی پارٹی سے تعلق رکھتی ہے اور پارٹی سربراہ اکھیلیش سنگھ یادو کا الزام ہے کہ جن دو نوجوانوں کو ویڈیو میں یہ مذموم اور انتہائی شرمناک حرکت کرتے دیکھا گیا ہے وہ بی جے پی کے کارکن ہیں۔ حالانکہ ابھی تک پولیس کی جانب سے اس پر کچھ کہا نہیں گیا ہے لیکن یہ بات طئے ہے کہ یہ لوگ سیاسی کارکن ضرور ہیں اور ان کا بی جے پی ہی سے تعلق ہوسکتا ہے کیونکہ بی جے پی ریاست میںکسی بھی قیمت پر ہر سطح پر اقتدار پر قبضہ چاہتی ہے ۔ اس کیلئے تشدد کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ جمہوری عمل کو داغدار کرنے والی حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ جمہوریت میں حصہ لینے والوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اقتدار کی ہوس میں خواتین کی عزت و احترام کا بھی پاس و لحاظ نہیں کیا جا رہا ہے ۔ حملہ آور اگر بی جے پی سے تعلق نہیں بھی رکھتے ہیں تب بھی ایسے واقعات کیلئے ریاستی حکومت ذمہ دار ہے ۔ عوام کی جان مال اور خواتین کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا پولیس اور حکومت کا ذمہ ہے ۔ حکومت محض چند پولیس عہدیداروں کو معطل کرتے ہوئے بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔ ریاست کے وزیر داخلہ کو بھی برطرف کیا جانا چاہئے یا پھر اگر خود وزیر داخلہ میں خواتین کا ذرا برابر بھی احترام ہے تو انہیں اپنے عہدہ سے استعفی پیش کردینا چاہئے ۔ یہاں بات صرف ایک امیدوار کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روکنے کی حد تک محدود نہیںہے بلکہ یہ خواتین کی عزت و احترام اور ان کے وقار کا مسئلہ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔
ریاست میں بی جے پی کے کئی قائدین پر عصمت ریزی اور دست درازی کے الزامات ہیں۔ کچھ پر تو یہ الزامات ثابت بھی ہوچکے ہیں اور انہیںعدالتوں سے سزائیں دی جاچکی ہیں جبکہ کچھ اپنے اقتدار اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بری ہونے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر ہمیشہ ہی ایک انتہائی اہمیت کا حامل اور حساس مسئلہ رہا ہے ۔ سیاستدانوں کی غلامی کرنے کی بجائے نفاذ قانون کی ایجنسیوں کو اپنی پیشہ وارانہ دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر جانبداری سے اپنا فریضہ نبھانا چائے ۔ خواتین کی عزت و احترام سے کھلواڑ کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دی جانی چاہئیں۔