برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں
کچھ بھی ہو اہتمامِ گلستاں کریں گے ہم
یو پی ‘ اپوزیشن کیلئے نوشتۂ دیوار
اترپردیش میں ضلع پنچایت صدور نشین کے انتخابات ہوئے جن میں برسر اقتدار بی جے پی کو شاندار کامیابی ملی ہے ۔ 53 ضلع پنچایت صدور نشین کے انتخابات میں بی جے پی کو 45 سے زیادہ ضلع پنچایتوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ یہ انتخابات ریاست میں بی جے پی اور اپوزیشن سماجوادی پارٹی کیلئے وقار کا مسئلہ تھے جن میں بی جے پی نے اپنا پرچم لہرادیا ہے جبکہ آئندہ سال انتہائی اہمیت کے حامل اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ آئندہ اسمبلی انتخابات کیلئے بی جے پی کی تیاریوں کا ابھی سے آغاز بھی ہوچکا ہے جبکہ اکھیلیش سنگھ یادو کی قیادت میں سماجوادی پارٹی بھی اپنے طور پر تیاریوں میں جٹ گئی ہے ۔ تاہم آج جو نتائج ضلع پنچایت صدور نشین کے انتخابات میں سامنے آئے ہیں وہ اپوزیشن کیلئے نوشتہ دیوار ہیں۔ اپوزیشن کی صفوں میں چاہے سماجوادی پارٹی ہو یا راشٹریہ لوک دل ہو یا پھر کانگریس ہی کیوں نہ ہو۔ سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھیلیش یادو نے اسمبلی انتخابات کیلئے کسی بڑی جماعت سے اتحاد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ انہیں ماضی میں بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس دونوں سے اتحاد کے تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ دونوں ہی اتحاد ناکام ہوئے ہیں اور سماجوادی پارٹی کو شکست ہوئی تھی ۔ اب جبکہ آئندہ اسمبلی انتخابات کیلئے صرف سات تا آٹھ ماہ کا وقت رہ گیا ہے ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہوگی ۔ عوام میں جاتے ہوئے انہیں حقیقی مسائل سے واقف کرواتے ہوئے اپنے آپ کو بی جے پی کی متبادل کے طور پر پیش کرنا ہوگا ۔ عوام کو موجودہ حکومت کی ناکامیوںاور خامیوں سے واقف کروانا ہوگا ۔ حالیہ کورونا بحران کی وجہ سے بی جے پی کو عوام کی ناراضگی کا سامنا ضرور رہا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو اس کو استعمال کرتے ہوئے خود کو عوام میں سرگرم کرنا ہوگا ۔ اتحاد کی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد نہیں ہوگا اور حکومت کی خامیوں کو اجاگر کرنے کی صلاحیت ان میں پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک کوئی موثر متبادل پیش کرنا آسان نہیں رہ جائے گا ۔
اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ بی جے پی ہندوستان میں فی الحال سب سے بڑی اور موثر انتخابی مشینری رکھنے والی جماعت بن کر ابھری ہے ۔ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے محض ضابطہ کی تکمیل کرنے والے اقدامات سے کام نہیں چلایا جاسکتا ۔ اس سلسلہ میں مغربی بنگال میں ممتابنرجی نے ایک بہترین مثال پیش کی ہے ۔ انہوں نے انتہائی شدت کے ساتھ بی جے پی کی پوری طاقت اور مرکزی حکومت سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوام کے درمیان جاتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا جس کے نتیجہ میں انہیں ریاست میں پہلے سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ اترپردیش کیلئے بھی بی جے پی سے مقابلہ کرنے اپوزیشن جماعتوں کوا یک جامع اور موثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہوگی ۔ سیاسی جماعتوں کو اپنا انا کے زعم میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ماضی کے تلخ تجربات کو بھی بالائے طاق رکھا جاسکتا ہے ۔ مشترکہ کوششوں کے ذریعہ حقیقی گراونڈ صورتحال کا اندازہ کرنے اور عوام کو اپنے حق میں راغب کرنے کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہوگی ۔ صرف بلند بانگ دعووں اور اپنی سیاسی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے بی جے پی کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ علاقائی جماعتیں کچھ ریاستوں میں طاقتور موقف رکھتی ہیں اور اس کا اعتراف کیا جانا چاہئے ۔ تاہم جس طرح سے بی جے پی سیاسی حکمت عملی کی مہارت رکھتی ہے اس کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جانی چاہئے ۔
ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنانے اور سماج میں تفرقہ پیدا کرنے ماحول کو فرقہ وارانہ خطوط پر بگاڑنے کیلئے بی جے پی حکمت عملی کا آغاز کرچکی ہے اور اپنے کارندوں کو بھی میدان میں چھوڑ چکی ہے ۔ ساری صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو ہر ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے موثر منصوبے تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ووٹوں کی تقسیم کو روکنے کیلئے خاص طور پر پروگرام بنایا جانا چاہئے ۔ کسی کو اچھوت سمجھنے کی حکمت عملی اترپردیش میں کارگر ثابت نہیں ہوسکتی ۔ جو نتائج ضلع پنچایت صدور نشین کے انتخاب میں سامنے آئے ہیں ان کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ یہ دیکھا جانا چاہئے کہ وہ کونسے عوامل تھے جو بی جے پی کے حق میں اور اپوزیشن کے خلاف گئے ہیں۔ ساری صورتحال کا انتہائی باریک بینی اور غیر جانبداری سے جائزہ لے کر ہی مستقبل کے منصوبوں کو قطعیت دی جانی چاہئے تاکہ اسمبلی انتخابات کے نتائج اپوزیشن کے حق میں آسکیں۔
کورونا ‘ مرکزی پیاکیجس اور معیشت
کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچائی ہے ۔ ہندوستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔ پہلی کورونا لہر نے جہاں سارے ملک کو خوف کا شکار کردیا تھا وہیں دوسری لہر نے توقعات سے زیادہ تباہی مچائی ہے ۔ ملک میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے ۔ لاکھوں افراد زندگیاں ہار چکے ہیں۔ ملک کی معیشت جہاں پہلی لہر سے متاثر ہونے شروع ہوئی تھی دوسری لہر تک اس کا سلسلہ برقرار رہا اور اس کے منفی اثرات کے نتیجہ میں جملہ گھریلو پیداوار منفی 7 فیصد کو پار کر گئی تھی ۔ کورونا کی پہلی لہر کے دوران ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے جملہ 20 لاکھ کروڑ روپئے کے پیاکیج کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم یہ محض اعلان تک محدود رہا اور عملا اس کی تقسیم پوری نہں ہو پائی تھی ۔ اب جبکہ دوسری لہر نے تباہی مچائی تھی اور ملک اس تباہی سے ابھر رہا ہے ابھی تک بھی 20 لاکھ کروڑ کے پیاکیج کے حصے کے طور پر مختلف پیاکیجس کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔ کبھی شعبہ صحت کیلئے کوئی اعلان ہوتا ہے تو کبھی سیاحت کی صنعت کو بحال کرنے کیلئے کوئی اعلان کیا جاتا ہے ۔ سارے اعلانات اور اقدامات کے باوجود ملک کی معیشت میں کوئی بہتر دکھائی نہیں دیتی ۔ حالانکہ اسٹاک مارکٹ کو اچھال دیتے ہوئے حالات کو بہتر دکھانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں لیکن حقیقی معاشی سرگرمیوں میں انحطاط پیدا ہوگیا ہے ۔ صنعتی پیداوار متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ کروڑوں افراد اپنی ملازمتوں اور روزگار سے محروم ہوگئے ہیں۔ ریٹیل مارکٹ کی تجارتیں متاثر ہوگئی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی حکومت موثر ڈھنگ سے معیشت کو بحال کرنے پر توجہ دے ۔ جو کچھ بھی منفی اثرات کورونا وباء کی وجہ سے ہوئے ہیں ان کا اثر زائل کرنے اور شرح ترقی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرتے ہوئے روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ بیروزگاری کی شرح کو کم کرتے ہوئے ملازمتوں کی فراہمی کیلئے بھی جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی معاشی مشکلات پر قابو پایا جاسکے۔
