یو پی مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ کی برقراری سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

   

جماعت اسلامی کے مرکزی تعلیمی بورڈ کا خیرمقدم، دینی مدارس کے امور میں حکومت مداخلت سے گریز کرے
حیدرآباد۔/5 نومبر، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی کے مرکزی تعلیمی بورڈ کے سکریٹری سید تنویر احمد نے اترپردیش مدرسہ ایکٹ 2024 کو برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ سید تنویر احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق فیصلہ کو کالعدم کردیا ہے جس میں مدرسہ ایکٹ کو غیرآئینی قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے وسیع تر بنچ کا تاریخی فیصلہ اتر پردیش میں اقلیتوں کیلئے حوصلہ افزا ہے۔ فیصلہ سے اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کو برقرار رکھنے اور انہیں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے مدارس کے طلبہ اپنے تعلیمی حقوق کا تحفظ کرپائیں گے اور مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی اداروں کے قیام کا حق حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے والے آئینی اصولوں کو سپریم کورٹ کے فیصلہ نے نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ان کی توثیق کی ہے۔ یہ فیصلہ اترپردیش حکومت کو یہ پیام دیتا ہے کہ وہ مذہبی تعلیمی اداروں کو ان کی شناخت کے ساتھ دینی و عصری تعلیم کے حق کا احترام کرے۔ حکومت اس معاملہ میں مدارس کا تعاون کرسکتی ہے۔ انہوں نے اترپردیش حکومت کو مدارس کے امور میں مداخلت سے گریز کا مشورہ دیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی زیر قیادت بنچ نے جو فیصلہ دیا ہے مدرسہ بورڈ اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔ بچوں کو دینی تعلیم و تربیت کوئی غیرقانونی عمل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے وضاحت کردی ہے کہ سیکولرازم کا مطلب جیو اور جینے دو ہے۔ ہندوستان کے تکثیری معاشرہ میں متنوع تعلیمی نقطہ نظر کے ساتھ بقائے باہمی کے اصولوں اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔ عدالت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مدرسہ ایکٹ ریاست کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے لہذا اس میں تعلیم کو معیاری بنانا اور سماجی و معاشی سطح پر شراکت داری کی اہلیت پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ سپریم کورٹ نے دستور کی دفعہ 21A اور رائیٹ ٹو ایجوکیشن کو مذہبی و لسانی اقلیتوں کے حقوق سے جوڑدیا ہے۔ مدارس اپنے مذہبی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے سیکولر تعلیم دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی مدرسہ ایکٹ کو برقرار رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ثابت کیا کہ ایسے ادارے معاشرہ میں بامعنیٰ اور مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام تعلیمی اداروں کیلئے خوش آئند ہے جو اپنی روایت اور مذہبی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے کام کررہے ہیں۔ فیصلہ سے اترپردیش میں تقریباً 17 لاکھ مدارس کے طلبہ کے تعلیمی سفر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ این سی پی سی آر جیسے اداروں کیلئے واضح پیام ہے جو مدارس کی شبیہہ بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔1