مسودہ قانون کی تیاری مقننہ کا دائرہ کار، دہلی ہائی کورٹ بنچ کا ریمارک
نئی دہلی 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو کہاکہ یکساں سیول کوڈ کا مسودہ تیار کرنے کے لئے وہ پارلیمنٹ کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا کیوں کہ یہ کام مقننہ کے دائرہ کار میں آتا ہے اور وہ (عدالت) اس میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر نے پانچ درخواستوں کا جواب دینے مرکز کو ہدایت دینے کے لئے کی گئی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اس سے عدالت کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس مسئلہ کو خارج کردیا جانا چاہئے کیوں کہ ہم پارلیمنٹ کو کوئی ہدایت دیں گے۔ تاہم اُس نے درخواست گذاروں کو جن میں بی جے پی کے لیڈر اشوین کمار اپادھیائے بھی شامل ہیں، اپنے متعلقہ مقدمات پر بحث کی اجازت دی۔ اس بنچ نے جمعہ کو فیروز بخت احمد چانسلر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، عنبر زیدی کی درخواست کی سماعت کی جنھوں نے دعویٰ کیاکہ وہ سماجی جہدکاکر اور میڈیا شخصیت ہیں۔ بنچ نے کہاکہ بشمول اپادھیائے دیگر درخواست گذاروں کی بحث پر سماعت جاری رکھی جائے گی۔ دہلی ہائی کورٹ بنچ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس مسئلہ پر بحث کی اجازت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ’ہم نے آپ کو مداخلت کی ہنوز اجازت نہیں دی ہے‘۔