یہ نفرت ہمیں کہاں لے جائے گی ؟

   


مدھیہ پردیش میں 10 سالہ لڑکے کی جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پر پٹائی
حیدرآباد۔30 ۔ڈسمبر(سیاست نیوز) مذہبی جنون اور نفرت کو جس انداز میں بڑھاوا دیا جار ہاہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ کل مدھیہ پردیش کے ضلع پندھانہ میں 5 ویں جماعت کے 10 سالہ بچہ کو ’جئے سری رام‘ کا نعرہ لگانے پیٹنے کا واقعہ منظر عام پر آیا ہے ۔ ملک کی مختلف ریاست میں اب تک جہاں گائے کے گوشت کے نام پر قتل کرنے کے علاوہ جئے سری رام کا نعرہ لگانے داڑھی ٹوپی والے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اب اس کیلئے معصوم بچوںکو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ 5 ویں جماعت کا طالب علم جو کہ مسلمان ہے وہ ٹیوشن کیلئے گھر سے روانہ ہواجسے راستہ میں اجئے نامی شخص نے روک کر ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کہا ۔ سالہ لڑکے نے صریح انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نعرہ نہیں لگاسکتا۔ انکار پر اجئے نے لڑکے کو ہراساں اور زدوکوب کرکے نعرہ لگانے تک پٹائی کرتا رہا۔10سالہ لڑکے کے ساتھ اجئے بھیل کے رویہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نفرت پھیلانے والوں نے ماحول کو کس قدر آلودہ کردیا ہے کہ معصوم 10 سالہ بچے پر بھی ہندو مذہب کا نعرہ لگانے مجبور کرکے پیٹا جا رہاہے ۔ اس انسانیت سوز حرکت کے باوجود اس کی کوئی مذمت کرنے تیار نہیں ہے بلکہ قانون کی دہائی دی جا رہی ہے۔ زدوکوب کا شکار معصوم بچے کے والد نے واقعہ کی شکایت کھنڈوا پولیس اسٹیشن پہنچ کر کی۔ ڈپٹی ایس پی کھنڈوا نے بتایا کہ لڑکے کے والد کی شکایت ملنے کے بعد اجئے بھیل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا اور اس پر دو فرقوں کے درمیان منافرت پھیلانے کے علاوہ معصوم کو گزند پہنچانے اور حملہ کرنے کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔