یہ ہے ہندو راشٹر… ہندوؤں کے کانوں کو لبھانے کی باری

,

   

مسلم اسکالرز اور قائدین کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد آر ایس ایس سربراہ بھاگوت کا غیردستوری تبصرہ

ناگپور : آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت حالیہ دنوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کافی سرگرم رہے ہیں اور اس دوران ان کی باتوں سے ان کا دوغلاپن تیزی سے سامنے آیا ہے ۔ چند دن گزرے کہ بھاگوت مسلم اسکالرس اور قائدین کے ساتھ ملاقاتوں اور بات چیت میں مصروف دکھائی دیئے حتی کہ انہوں نے ایک مسجد کامپلکس کا دورہ بھی کیا ۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ وہ مودی حکومت میں مسلمانوں کی بے چینی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ آر ایس ایس کٹر ہندو پسند تنظیم ہے ۔ وہ زیادہ عرصہ مسلمان اور اقلیتیں کے موضوع پر مصروف نہیں رہ سکتی ۔ کیونکہ اکثریتی برادری کی ناراضگی کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ شائد اسی لئے دو روز قبل دسہرہ کے موقع پر ناگپور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ بھاگوت نے بالکلیہ مختلف انداز اختیار کرتے ہوئے ہندوؤں کے کانوں کو لبھانے کا کام کیا ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں زور دے کر کہا کہ ہندوستان ہندو راشٹر ہے ۔ یہ ہر اعتبار سے ہندو راشٹر ہے اور ان کی آرگنائزیشن اسی بات پر یقین رکھتے ہوئے اس نظریہ کو پھیلاتی ہے ۔ پھر انہوں نے تقریر میں توازن کا پہلو شامل کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہے ۔ اگرچہ روایت ، افکار کے معاملہ میں تکثیریت پائی جاتی ہے لیکن اقدار یکساں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دنیا بھر میں امن ، بھائی چارہ اور خوشحالی چاہتے ہیں ۔ انہوں نے تذکرہ کیا کہ ماضی میں کئی مسلم وفود ان سے مل چکے ہیں ۔ بعض لوگوں نے ایسے اندیشے پھیلادیئے ہیں کہ آر ایس ایس اقلیتوں کو نقصان پہنچائے گا ۔ ان اندیشوں کے پیش نظر مسلم وفود ان سے ملاقات کرتے ہوئے مطمئین ہوئے ہیں ۔ تاہم ہندوؤں سے خطاب میں آر ایس ایس سربراہ کا ملک کو ہندو راشٹر کہنا غیردستوری تبصرہ ہے کیونکہ دستور ہند میںملک پر کوئی مذہبی چھاپ نہیں بلکہ یہ سیکولر نوعیت کا ہے ۔