دانا کشور( عثمانیہ یونیورسٹی ) ، رضوی ( امبیڈکر یونیورسٹی ) اور احمد ندیم کو پالمور یونیورسٹی کی ذمہ داری، وائس چانسلرس کے تقرر کیلئے سرچ کمیٹیاں سرگرم
حیدرآباد۔/21 مئی، ( سیاست نیوز) حکومت نے تلنگانہ کی 10 سرکاری یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کی میعاد آج ختم ہوتے ہی آئی اے ایس عہدیداروں کو انچارج وائس چانسلرس کے طور پر مقرر کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے مستقل وائس چانسلرس کے تقرر تک انچارج وائس چانسلرس برقرار رہیں گے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کیلئے پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق دانا کشور کو انچارج وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم بی وینکٹیشم جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی حیدرآباد کے انچارج وائس چانسلر ہوں گے۔ کاکتیہ یونیورسٹی کیلئے کرونا واکٹی ( آئی اے ایس )، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر کے طور پر سید علی مرتضیٰ رضوی ( آئی اے ایس ) کا تقرر کیا گیا۔ تلنگانہ یونیورسٹی کیلئے سندیپ کمار سلطانیہ ( آئی اے ایس ) ، پوٹی سری راملو تلگو یونیورسٹی کیلئے شیلجا رمیار ( آئی اے ایس )، مہاتما گاندھی یونیورسٹی کیلئے نوین متل ( آئی اے ایس ) ، شاتا واہنا یونیورسٹی کیلئے سریندر موہن ( آئی اے ایس )، جواہر لال نہرو آرکیٹکچر اینڈ فائن آرٹس یونیورسٹی کیلئے جیش رنجن ( آئی اے ایس ) اور پالمور یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر کے طور پر احمد ندیم ( آئی اے ایس ) کا تقرر کیا گیا۔ اسی دوران الیکشن کمیشن نے حکومت کو وائس چانسلرس کے تقرر کی اجازت دے دی ہے جس کے تحت حکومت کی جانب سے قائم کردہ سرچ کمیٹیوں نے اہل امیدواروں کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے۔ سرچ کمیٹیاں ہر یونیورسٹی کے لئے تین نام تجویز کریں گی جن کا تقرر ریاستی گورنر کریں گے۔ 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے عہدوں کیلئے 1300 سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن وائس چانسلرس کی میعاد آج ختم ہوئی وہ دوسری میعاد کے درخواست گذار ہیں تاہم بی آر ایس دور حکومت کے تقرر کردہ افراد کو کانگریس حکومت دوبارہ موقع نہیں دے گی۔ اسی دوران وائس چانسلرس کے عہدوں کیلئے خواہشمند امیدواروں کی جانب سے زبردست پیروی شروع ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر اور ریاستی وزراء سے رجوع ہوکر درخواست گذار اپنے تقرر کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے اپنے طبقات کے سرکردہ قائدین اور تنظیموں کی مدد حاصل کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ کا آغاز کردیا ہے۔ حکومت نے کاکتیہ یونیورسٹی کو چھوڑ کر 9 یونیورسٹیز کیلئے سرچ کمیٹیوں کا تقرر کیا ہے جنہوں نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ میعاد کی تکمیل کرنے والے تین وائس چانسلرس پر بدعنوانیوں کے الزامات ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سرچ کمیٹیوں کو امیدواروں کے ناموں کی سفارش کا کام جلد مکمل کرنے کا مشورہ دیا ہے اور توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ تقررات کا عمل مکمل ہوجائے گا۔1