ماسکو : روس کی فوج نے کہا ہیکہ صدر ولادیمیر پوتن کے ریزرو فوجی اہلکاروں کو طلب کرنے کے چوبیس گھنٹوں بعد کم از کم دس ہزار رضاکار یوکرین کے خلاف لڑنے کیلئے متعلقہ مراکز میں پہنچ گئے ہیں۔اے ایف پی کے مطابق فوج کے ترجمان ولادیمیر سملیانسکی نے روس کی مقامی نیوز ایجنسی انٹر فیکس کو بتایا کہ صدر کے اعلان کے پہلے دن ہی تقریباً دس ہزار شہری اپنی مرضی سے بھرتی کے مراکز پہنچے ہیں جبکہ انہیں ابھی ڈیوٹی پر آنے کے احکامات بھی جاری نہیں کیے گئے تھے۔ترجمان نے کہا کہ فوج نے کال سنٹر قائم کیا ہوا ہے جہاں وہ اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے شہریوں اور اداروں کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔صدر ولادیمیر پوٹن کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز چل رہی ہے جن میں دکھایا گیا ہے کہ ملک بھر سے سینکڑوں کی تعداد میں روسی شہری صدر کی کال پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے ریزرو فورس میں شامل ہو رہے ہیں۔سائبیریا کے شہر یاکوٹیا سے آنے والی ویڈیو میں مردوں کو دکھایا گیا ہے جس میں وہ بس پر سوار ہونے سے پہلے اپنی فیملیز سے مل رہے ہیں جب کچھ کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔روسی ٹیلی ویژن چینل ماش پر بھی ایک ویڈیو دکھائی گئی ہے جس میں طویل قطار میں کھڑے شہری جہاز پر چڑھنے کیلئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔