حمدہ کے عزم و حوصلے کو سلیوٹ !
حیدرآباد۔ 23 جنوری (سیاست نیوز)اکثر نوجوان لڑکیاں اور خواتین یہ کہتی ہیں کہ ہم تو مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن ہمارے والدین نے کم عمری میں ہماری شادی کرادی۔ پھر شادی کے بعد بچوں کی پرورش اور گھر کی دیکھ بھال کی وجہ سے ہم ہائیراسٹیڈیز تک نہیں جا پائے، ایسے لڑکیوں اور خواتین کیلئے سعودی عرب کی 40 سالہ 19 بچوں کی ماں ایک بہترین مثال ہے۔ کہتے ہیں نا کہ عزم و حوصلہ پختہ اور مضبوط ہو تو کوئی بھی چیز حاصل کرنا ناممکن نہیں ۔ سعودی عرب کی ایک شادی شدہ خاتون Hamda Al Ruwaili نے بھی کچھ ایسا ہی کر دِکھایا۔ سعودی خاتون کو تعلیم حاصل کرنے کا بچپن ہی سے بہت شوق تھا، لیکن والدین نے اُن کی جلد ہی شادی کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ 19 بچوں کی ماں بن گئی ہے۔ اتنے زیادہ بچوںکی پیدائش اور پرورش کے باوجود اس خاتون نے اپنی تعلیم حاصل کرنے کے شوق کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ آہستہ آہستہ حمدہ ایک ایک کورس مکمل کرتے ہوئے بزنس اسٹیڈیز میں پی ایچ ڈی کی تعلیم تک پہنچ گئی۔ اس خاتون نے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے رات میں کئی کئی گھنٹے پڑھتے ہوئے گزار دیئے اور پھر بزنس اسٹیڈیز جیسے اہم پروفیشن میں اپنے خاندان کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے ساتھ اپنے دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔ 2