ناقص تعلیمی پالیسی اہم وجہ ، بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں راجستھان ، مہاراشٹرا، گجرات اور اترپردیش افشاء میں سرفہرست
حیدرآباد ۔20 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ملک بھر میں نوجوانوں کی جانب سے نیٹ 2026 کے پرچہ جات کے افشاء کے خلاف احتجاج جاری ہے اور دارالحکومت دہلی طلبہ تنظیموں کے احتجاج کا مرکز بن چکا ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے آغاز کے پہلے دن طلبہ نے پارلیمنٹ تک مارچ کی کوشش کی جس کی نتیجہ میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ طلبہ ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی مانگ کر رہے ہیں تاکہ امتحانات کا انعقاد شفافیت کے ساتھ ہو اور دھاندلیوں کی گنجائش نہ رہے۔ ملک میں امتحانی پرچہ جات کا افشاء یوں تو کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن 2014 کے بعد سے ملک کی کسی نہ کسی ریاست میں امتحانی پرچوں کے افشاء کے معاملات منظر عام پر آرہے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے ابھی تک 152 امتحانی پرچہ جات کا افشاء ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے معاملہ میں بی جے پی زیر اقتدار ریاستیں دوسروں سے آگے ہیں۔ ہریانہ ، راجستھان ، گجرات ، مہاراشٹرا، بہار ، مدھیہ پردیش ، آسام اور دارالحکومت دہلی میں امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے زائد معاملات درج ہوئے ہیں۔ قومی اور ریاستی سطح پر امتحانات خاص طور پر مسابقتی امتحانات کے انعقاد کیلئے فل پروف سسٹم موجود ہیں ، باوجود اس کے وقفہ وقفہ سے پرچہ جات کے افشاء کی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں۔ 2014 سے 2026 تک قومی سطح کے 38 امتحانات کے پرچہ جات کا افشاء ہوا جن کا انعقاد دارالحکومت دہلی سے قومی اداروںکی جانب سے کیا جاتا ہے۔ جاریہ سال نیٹ یو جی 2026 کے پرچہ جات کے افشاء نے ملک بھر میں لاکھوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچایا ہے۔ 2025 میں 3 قومی سطح کے امتحانات کے پرچہ جات کا افشاء ہوا تھا۔ ریاستوں کی سطح پر امتحانی پرچہ جات کے افشاء معاملہ میں راجستھان، مہاراشٹرا، اترپردیش، گجرات اور آسام سرفہرست ہیں۔ ان ریاستوں میں فی کس 11 امتحانی پرچہ جات کا حالیہ 12 برسوں میں افشاء ہوا جبکہ آسام میں 8 امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے معاملات منظر عام پر آئے۔ دیگر ریاستوں میں جموں و کشمیر 5 ، ہریانہ 6 ، کرناٹک 7 ، کیرالا 2 ، تلنگانہ 4 ، مدھیہ پردیش 6 ، بہار 6 ، اڈیشہ 4 ، مغربی بنگال 5 ، ٹاملناڈو 2 ، ہماچل پردیش 4 اور جھارکھنڈ میں دو امتحانات کے پرچہ جات کا افشاء ہوا ہے۔ ملک بھر میں طلبہ تنظیموں کے احتجاج کو اپوزیشن پارٹیوں کی تائید حاصل ہوچکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تعلیمی شعبہ میں اصلاحات کی جدوجہد کیا رنگ لائے گی۔1/k/a/b