ہندو ۔ مسلمان میری دو آنکھیں ، دعوت افطار سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔15۔مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ کے مسلمانوں کو کانگریس کی جانب سے دیئے گئے 4 فیصد تحفظات کو برخواست کرنے کی طاقت نہ نریندر مودی میں ہے اور نہ ہی امیت شاہ میں یہ طاقت ہے ۔ ہندو۔مسلمان میری دو آنکھیں ہیں اور مسلمانوں کو ساتھ لیتے ہوئے ہی ریاست مجموعی ترقی کرسکتی ہے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی چیف منسٹر تلنگانہ نے آج حکومت کی جانب سے دی گئی دعوت افطار میں شرکاء سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت تمام طبقات کی مجموعی ترقی کے عہد کی پابند ہے اور اس کی مثال ریاست میں 4 مسلمانوں کو بنائے گئے صدرنشین اوردیگر اداروں میں دی گئی مسلمانوں کو نمائندگی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس جب کبھی اقتدار میں رہی مسلمانوں کی ترقی کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ریاست کی جامعات میں حکومت لازمی طور پر ایک مسلم وائس چانسلر کی نامزدگی کو یقینی بنائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن میں مسلم نمائندگی کا حوالہ دیا اور کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مسلم مشیر حکومت کے تقرر کو بھی یقینی بنایا ۔ دعوت افطار کے موقع پر چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد مشیر حکومت برائے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیت جناب محمد علی شبیر نے ماہ رمضان المبارک کے دوران تجارتی اداروں کو 4 بجے صبح تک کھلا رکھنے کی اجازت کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے اپنے خطاب کے دوران ماہ رمضان المبارک کی فضیلت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ماہ بابرکت کے دوران جو کچھ مانگتے ہیں اللہ وہ نوازتا ہے ۔انہو ںنے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ریاست کی عالمی سطح پر ترقی اور تلنگانہ میں امن و امان کی برقراری کے لئے دعاء کریں تاکہ دنیا کے نقشہ میں ہماری ریاست ابھرے۔ چیف منسٹر نے دعوت افطار کے موقع پر کہا کہ ان کی حکومت ریاست کے کسی بھی شعبہ میں مسلمانوں سے ناانصافی نہیں کرے گی اور نہ ہی مسلمانوں کو اب اپنے حق کے حصول کے لئے کوئی درخواست داخل کرنی ہوگی بلکہ ان کے حقوق ان کے گھروں تک پہنچیں گے۔ قبل ازیں مولانا حافظ محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد کی قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا جبکہ مولانا احسن بن محمد عبدالرحمن الحمومی خطیب و امام شاہی مسجد باغ عامہ نے افطار سے قبل رقت انگیز دعاء کی ۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ و صدر مجلس اتحادالمسلمین نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سی اے اے قانون کے متعلق کانگریس کا موقف واضح ہے اسی لئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو بھی اپنے موقف کو پیش کرتے ہوئے ایک اچھا پیغام دینا چاہئے ۔ انہوں نے ریاست میں امن وامان کی برقراری کے سلسلہ میں کوششوں کو بہتربنانے کا مشورہ دیا۔ دعوت افطار میں جناب عامر علی خان نیوزایڈیٹر روزنامہ سیاست‘ جناب سید عظمت اللہ حسینی صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ ‘ مولانا غلام سید افضل بیابانی صدرنشین تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی ‘ جناب عبید اللہ کوتوال صدرنشین تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ‘ جناب طاہر بن حمدان صدرنشین تلنگانہ ریاستی اردو اکیڈیمی ‘ جناب علی مسقطی ، مولانا سید نثار حسین حیدر آغا‘ مولانا سید تقی رضاعابدی‘ جناب ملک معتصم خان‘جناب فیروز خان‘ جناب مشتاق ملک ‘ ارکان اسمبلی جناب میر ذوالفقارعلی ‘ جناب جعفر حسین معراج‘ جناب احمد بن عبداللہ بلعلہ ‘ ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرمارک‘ ریاستی وزیر اطلاعات ونشریات مسٹر پی سرینواس ریڈی کے علاوہ جناب شاہنواز قاسم آئی پی ایس ‘ جناب تفسیر اقبال آئی پی ایس ‘محترمہ عائشہ مسرت خانم آئی ایس ‘ جناب فہیم قریشی ‘ پروفیسر ایس اے شکور کے علاوہ دیگر موجود تھے۔3