حیدرآباد ۔ یکم ۔ فروری ( سیاست نیوز ) ۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی 500کروڑ کی مالیتی جائیداد پر جاری قبضہ اور پلاٹس کی فروخت پر وقف بورڈ کی خاموشی اور محکمہ مال کی جانب سے ان سروے نمبرات کو موقوفہ قرار دیئے جانے کے باوجود اراضی پر جاری ترقیاتی سرگرمیاں اور مختلف اداروں بالخصوص بلدیہ ‘ آبرسانی اور برقی کی جانب سے کنکشن دیئے جانے اور مکان نمبرات الاٹ کئے جانے پر وقف بورڈ کی خاموشی باعث حیرت ہے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بور ڈ کی شہر حیدرآباد کے حدود میں موجود جائیدادوں میں انتہائی قیمتی جائیداد جو کہ بالا پور منڈل میں سروے نمبر 99/1 کے علاوہ 96 میں شامل ہے اس اراضی پر آویزاں کئے گئے وقف بورڈ کے بورڈس نکال کرکابینہ میں شامل ایک وزیر کی نگرانی میں جائیداد کو تباہ کیا جا رہا ہے اور روڈی شیٹرس اس جائیداد کو فروخت کر رہے ہیں۔ بڈنگ پیٹ کارپوریشن کے حدودمیں موجود یہ قیمتی اوقافی جائیداد درگاہ حضرت بابا شرف الدین سہروردیؒ کے تحت ہے اور متحدہ ریاست آندھراپردیش میں اس جائیداد کو تلنگانہ ریاستی وقف بور ڈکے حوالہ کیا گیا تھا اور اس وقت کے بورڈ کی جانب سے اراضی کا مکمل سروے کرتے ہوئے جگہ جگہ وقف بورڈ کی جائیداد ہونے کے بورڈ آویزاں کئے گئے تھے لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اس پہاڑی علاقہ کو مسطح کرنے کی کوششوں کے بعد اب اس قیمتی جائیداد کی فروخت کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ تحصیلدار بالا پورمنڈل مسٹر جناردھن راؤ نے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر بتایا کہ دونوں سروے نمبرات موقوفہ ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی تنازعہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ان جائیدادوں کو فروخت کرنے کی کوشش اور ان پر قبضوں کی شکایت موصول ہونے پر وہ کاروائی کے لئے تیار ہیں لیکن وقف بورڈ کی جانب سے اب تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے ۔ صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ وقف بورڈ کی جانب سے کسی بھی جائیداد کو محفوظ بنانے کے لئے ممکنہ اقدمات کئے جائیں گے اور جائیدادوں پر ہونے والے قبضہ کو روکنے کے لئے متعلقہ حکام کو متوجہ کروایا جائے گا۔ پہاڑی شریف کے دامن میں موجود اس قیمتی موقوفہ جائیداد میںجو کہ مجموعی اعتبار سے 90 ایکڑ ہے اس میں زائد از 20ایکڑ اراضی پر قبضہ کئے جانے اور غیر مجاز کرشر چلائے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ موقوفہ اراضیات کے اس قبضہ میں وقف بورڈ کے بھی بعض عہدیدارملوث ہیں ۔ پہاڑی شریف کے تحت موجود موقوفہ اراضی کو کھلی چھوڑے جانے کے سبب اس جائیداد پر لینڈ گرابرس کی نگاہیں ہیں اور وہ ان کھلی اراضیات پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں فروخت کر رہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے فوری طور پر اس جائیداد کے تحفظ کے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں سیاسی سرپرستی کے حامل لینڈ گرابرس کی جانب سے ان اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے اس غیر نزاعی قیمتی اراضی پر تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ لینڈگرابرس اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے موقوفہ اراضی میں جائیداد خریدنے والوں کو ممکنہ سہولتوں کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں اور ان مالکین جائیداد کو برقی ‘ آبرسانی ‘ بلدی سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جار ہی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کا کہناہے کہ مقامی شہریوں کی جانب سے موقوفہ جائیداد کی فروخت کو روکنے کی کوشش پر انہیں پولیس کی مدد سے خوفزدہ کیا جا رہاہے اور انہیں دھمکیاں موصول ہونے لگی ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کے رجسٹریشن کو روکنے کے اقدامات کے باوجود اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کا سلسلہ جاری رہنے کے سلسلہ میں تحقیق پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بعض ملازمین کی جانب سے بورڈ کو اطلاع کے بغیر ایسے مکتوب محکمہ مال بالخصوص رجسٹریشن آفس کو روانہ کئے جارہے ہیں جن کی بنیاد پر قبضہ کی گئی جائیدادوں کے رجسٹریشن کی راہ ہموار ہونے لگی ہے۔ سروے نمبر 99/1وہ موقوفہ اراضی ہے جسے متحدہ ریاست آندھراپردیش میں اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھرریڈی نے وقف بورڈ کے حوالہ کیا تھا اور اب یہ جائیداد خطرہ میں ہے لیکن موجودہ حکومت میں شامل افراد اس جائیداد کو تباہ کر رہے ہیں جو کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی جائیدادوں کے متعلق اختیار کردہ بے اعتنائی کو ثابت کرتا ہے کہ کس طرح سے موقوفہ جائیداد پر قبضہ کرتے ہوئے اس کی فروخت عمل میں لائی جا رہی ہے ۔وقف بورڈ کی جانب سے فوری طور پر مذکورہ سروے نمبرات میں جاری تعمیری و غیر قانونی طور پر پتھر پھوڑنے کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے اور ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی سے اجتناب کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں وقف بورڈ کے عہدیداروں کے کردار کوبھی مشکوک تصور کیا جائے گا۔م