62 سالہ شخص کو آئی سیٹ میں 178 واں رینک حاصل

   

ایل آئی سی میں خدمات انجام دینے والے سوریا نارائنا نے طلبہ کے لیے نئی مثال قائم کی
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جولائی : یہ شخص نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے جو امتحانات میں ناکامی کے بعد مایوس ہو کر خودکشیاں کرتے ہوئے اپنی قیمتی زندگیاں ضائع کررہے ہیں اور والدین کے خوابوں پر پانی پھیر رہے ہیں ۔ 62 سالہ سوریہ نارائنا نے آئی سیٹ امتحان میں 178 واں رینک حاصل کرتے ہوئے ایک مثال قائم کی ہے ۔ ضلع عادل آباد سے تعلق رکھنے والے یہ شخص جیسے ہی عادل آباد میں قائم کئے گئے آئی سیٹ آن لائن امتحانی مرکز پہونچا تو دوسرے طلبہ جو امتحان تحریر کررہے تھے ان سب نے سوریہ نارائنا کو لکچرر سمجھا مگر وہ خود امتحان تحریر کیا تو تمام طلبہ حیرت زدہ رہ گئے اور جب نتائج برآمد ہوئے تو انہیں 178 واں رینک حاصل ہوا ۔ اس شخص کا چھوٹا بیٹا شرن ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ناسازی صحت کی وجہ سے فوت ہوگیا اس کے تھوڑے دن بعد کورونا سے متاثر ہوکر بیوی نے بھی ان کا ساتھ چھوڑتے ہوئے رخصت ہوگئی ۔ جس کا سوریہ نارائنا کی زندگی پر بہت زیادہ اثر پڑا ۔ عمر کے آخری حصے میں جوان بیٹے اور بیوی کی موت سے انسان ٹوٹ جاتے ہیں اور ہار مان لیتے ہیں اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تنہائی کی زندگی گذارتے ہیں مگر سوریہ نارائنا نے حالات کے آگے سرجھکانے کے بجائے نئی نسل کو مایوسی سے نجات دلانے کے لیے خود ایک مثال بن کر ابھر اور وہ کام کیا جس کی ہر جگہ واہ واہ ہورہی ہے ۔ شہر عادل آباد ٹیچرس کالونی میں رہنے والے آر سوریہ نارائنا کی ایک بیوی سنیتا اور دو بیٹوں پر مشتمل خاندان ہے وہ ایل آئی سی کے اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر تھے اور ان کی شریک حیات سرکاری ٹیچر تھی بڑا بیٹا شیشانک سنٹرل گورنمنٹ کا ملازم ہے ۔ ان کی آنکھوں کے سامنے چھوٹے بیٹے اور بیوی کی موت ہوگئی ۔ جس کے بعد تنہا ہوجانے والے سوریہ نارائنا اپنے بڑے بیٹے کے پاس پربھنی مہاراشٹرا منتقل ہوگئے ۔ اسی دوران امتحانات میں فیل ہونے کے بعد خود کشی کرنے والے طلبہ نے انہیں بے حد متاثر کیا ۔ زندگیوں کا تحفظ فراہم کرنے والے ادارہ ایل آئی سی میں کام کرنے والے سوریہ نارائنا کو زندگیوں کی اہمیت کا اندازہ ہے ۔ انہوں نے عمر کی قید نہ ہونے والے آئی سیٹ امتحان لکھنے کا فیصلہ کیا ۔ پہلی کوشش میں انہیں 1828 رینک حاصل ہوا ۔ دوسری کوشش میں 178 رینک حاصل کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ۔ بلکہ ضرور رنگ لاتی ہے اور کامیابی محنت کرنے والوں کے قدم چومتی ہے ۔ سوریہ نارائنا نے اپنی اس کامیابی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے دل برداشتہ ہو کر انتہائی اقدام کررہے ہیں ۔ وہ اس لیے خود کشی کررہے ہیں کیوں کہ انہوں نے امتحانات ٹھیک طرح سے تحریر نہیں کیا ۔ انہوں نے نوجوان نسل کو زندگی کی قدر و اہمیت سے واقف کرانے کا فیصلہ کرلیا صرف تین ماہ تک ICET امتحان کی تیاری کی ۔ یوٹیوب کی مدد سے پرانے سوالیہ پرچوں کی روزانہ 3 تا 4 گھنٹوں تک پڑھائی کی ۔ نوٹس بنائے اپنی غلطیوں کو درست کیا اور نتائج سب کے سامنے عیاں ہیں ۔۔