COP31 جاپان۔ترکیہ تعاون میں ایک نیا دور بن سکتا ہے

   

ٹوکیو/ انقرہ :8 نومبر ( یو این آئی ) جاپان کے سفیر برائے انقرہ، تامورا ماسامی نے 2024ء میں ترکیہ۔جاپان سفارتی تعلقات کے قیام کی 100ویں سالگرہ کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ COP31 دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کا ذریعہ بن سکتا ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کیخلاف جدوجہد میں عملی اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تامورا نے کہا ہے کہ ہم ترکیہ کی حکومت کے اس مؤقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ COP31 کو وعدوں اور عہد و پیمان سے آگے بڑھنا اور وعدوں کو عملی مرحلے میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ہم اپنے وعدوں اور عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جدوجہد میں ہمارا مشترکہ ہدف ہے، تاہم مختلف ممالک کے معاشی اور جغرافیائی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس لیے اس ہدف کے حصول کے لیے مختلف راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔تامورا نے کہا ہیکہ ترکیہ اور جاپان کو وسائل ِ توانائی کیلئے بیرونی ممالک پر انحصار کے حوالے سے یکساں نوعیت کے چیلنجوں کا سامنا ہے، جبکہ توانائی کا تحفظ اور اس کی پائیدار فراہمی دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیحات ہیں۔انہوں نے توانائی کی پیداوار، ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے نظام میں کارکردگی بڑھانے کے شعبوں میں دونوں ممالک کی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ترکیہ میں پن بجلی، ہوا اور شمسی توانائی کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت موجود ہے۔
تامورا نے کہا ہے کہ’’توانائی کی منتقلی کے مختلف مراحل میں ترک اور جاپانی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ توانائی کی بچت، ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیاں اور قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیاں ایسے شعبے ہیں جن میں جاپان اور ترکیہ کے درمیان تعاون کے مواقع نمایاں ہیں۔‘‘ترکیہ میں جاپانی کمپنیوں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے تامورا نے کہا ہے کہ ہٹاچی انرجی گزشتہ 60 برس سے زائد عرصے سے صوبہ کوجائیلی میں کام کر رہی اور بجلی کی ترسیل کے آلات تیار کر رہی ہے۔یہ آلات ترکیہ میں قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو بجلی کے قومی نظام سے منسلک کرنے اور بجلی کے ترسیلی نظام کو مستحکم رکھنے کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ترک اور جاپانی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے توانائی کی منتقلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔