نیویارک ۔ 22 ستمبر (ایجنسیز) گروپ سیون کے وزرائے خارجہ نے منگل کے روز ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی ملیشیا کو اسلحہ فراہم کرنے اور اس کی حمایت کا سلسلہ بند کرے۔وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اس حمایت کا جاری رہنا خطرناک کشیدگی کے ایک ایسے سلسلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے تنازعہ مزید بڑھنے، عالمی تجارت متاثر ہونے اور عالمی اقتصادی عدم استحکام میں اضافے کا خدشہ ہے۔برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ ایران کے قابل مذمت اقدامات خطرناک کشیدگی کے ایک ایسے سلسلے کی نمائندگی کرتے ہیں جس سے تنازعہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔گروپ سیون کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے ’’ناقابل قبول حملوں‘‘ کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ وہ یمن کی صورتحال کو خطے کے استحکام اور سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کے تحفظ کیلئے ’’ناقابل قبول خطرہ‘‘ سمجھتے ہیں۔وزرائے خارجہ نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور شہری بحری جہازوں کے خلاف حملے فوری طور پر بند کریںاور گروپ پر زور دیا کہ وہ ’’نیک نیتی‘‘ کے ساتھ سیاسی عمل کی طرف واپس آئے۔گروپ سیون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب خطے میں بحری جہازوں کی آمدورفت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔