نئی دہلی : جی ۔ 20 سربراہی اجلاس کا آغاز وزیر اعظم نریندر مودی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ ہندوستان G-20 کے موجودہ سربراہ کے طور پر سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس کے بعد برازیل یہ ذمہ داری سنبھال لے گا۔ G-20 سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے ملک کا نام لیتے ہوئے لفظ ’انڈیا‘ استعمال کیا۔ اس تقریب کے دوران جب وزیر اعظم مودی نے بھارت منڈپم میں افتتاحی تقریر کی تو جو تصویر سامنے آئی اس نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ پی ایم مودی کے سامنے ملک کا نام کے پلیکارڈ ( نیم پلیٹ) پر انڈیا نہیں بلکہ بھارت لکھا گیا ہے جس سے جنوبی ایشیائی ملک کے نام کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔ ہندوستان کو انڈیا، بھارت، ہندوستان اس کے نوآبادیاتی ناموں سے پہلے ہندوستانی زبانوں میں بھی کہا جاتا ہے۔
اور یہ عوام اور سرکاری طور پر ایک دوسرے کے بدلے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی بین الاقوامی تقریب میں وزیر اعظم کی نشست کے سامنے ملک انڈیا کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔ G20 کا آخری اجلاس 14 سے 16 نومبر تک انڈونیشیا کے شہر بالی میں ہوا تھا۔ پھر پی ایم مودی کے آگے ملک کا نام صرف انڈیا لکھا گیا۔ جیسے ہی مودی نے نئی دہلی میں چوٹی کانفرنس کو ہفتہ کے روزآغازہونے کا اعلان کیا وہ ایک میز کے نام کی تختی کے پیچھے بیٹھ گئے جس پر لکھا تھا ’بھارت‘جب کہ G20 لوگو میں دونوں نام تھے – ہندی میں ’بھارت‘ اور انگریزی میں ’انڈیا‘۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب راشٹرپتی بھون کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دعوتی کارڈ پر صدر جمہوریہ ہند(انڈیا) کے بجائے صدر بھارت لکھا گیا صدر جمہوریہ صدر دروپدی مرمو نے اس ہفتہ کے شروع میں جی 20 رہنماؤں کے استقبال کے لیے دیے گئے عشائیے کے دعوت نامے میں خود کو ’بھارت کا صدر‘ کہا تھا۔ اس طرح کے پلے کارڈز میں ماضی میں ’انڈیا‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ہندی میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت G20 کے صدر کی حیثیت سے مندوبین کا خیر مقدم کرتا ہے۔ نئی دہلی 16ویں صدی کے پتھر کے قلعے کے سامنے بھارت منڈپم نامی ایک نئے، 300 ملین ڈالر کے شنخ کی شکل والے کنونشن سینٹر میں بلاک کے سربراہی اجلاس کے لیے بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کی میزبانی کر رہا ہے۔ جب کہ بھارت نام کے کچھ حامی کہتے ہیں کہ ’انڈیا‘ برطانوی نوآبادکاروں نے دیا تھامورخین کا کہنا ہے کہ یہ نام صدیوں سے نوآبادیاتی حکمرانی کا ہے۔ حکمران بی جے پی کے نظریاتی سرپرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے ہمیشہ ملک کو بھارت کہنے پر اصرار کیا ہے۔ اس اقدام سے سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ حکومت اپوزیشن کی جانب سے ‘انڈیا’ (انڈین نیشنل ڈیموکریٹک انکلوسیو الائنس) کے نام سے ایک اتحاد بنانے کی وجہ سے ملک کے نام سے لفظ انڈیا کو ہٹانا چاہتی ہے۔ تاہم بی جے پی نے لفظ بھارت کی ثقافتی جڑوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس ہندی نام کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔ مودی کے حریفوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی جولائی میں 28 جماعتوں کی طرف سے بنائے گئے نئے اپوزیشن اتحاد ’’ انڈیا‘‘ نے مجبور کیا ہے جسے انڈیا یا انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس کہا جاتا ہیجو اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی سے مقابلہ کرے گا۔ دوسری جانب کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے اس معاملے پر کہا کہ ملک اب اس حکومت کی پالیسیوں سے تنگ آچکا ہے۔ لوگ ناراض ہیں اور ہندوستانی اتحاد کو اب متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نام کی تبدیلی اور ایک قوم، ایک الیکشن جیسے اصول سامنے آہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ این ڈی اے 2024 میں حکومت نہیں بنا پائے گی۔