یکم جولائی 1987 سے پہلے اور بعد میں پیدا ہونے والوں کیلئے الیکشن کمیشن کے رہنمایانہ خطوط جاری
حیدرآباد۔ 24 جون (سیاست نیوز) سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی جامع نظر ثانی (SIR) کی 25 جون سے شروع ہونے والی مہم کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ انتخابی عہدیداروں نے ووٹرس کی میاپنگ کی پہلے ہی تفصیلات جاری کردی ہے۔ ریاست کے 3,38,26,448 کروڑ ووٹرس میں اب تک 2,38,62,322 کروڑ ووٹرس کی میاپنگ کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔ اس میاپنگ کا بنیادی مقصد موجودہ سال 2026 کی ووٹر لسٹ کے ناموں اور ان کے خاندان کے افراد کے ناموں کو سال 2002 کی ووٹر لسٹ کے ڈیٹا سے جوڑنا اور اس کی تصدیق کرنا ہے۔ ایس آئی آر سروے کے باقاعدہ آغاز کے بعد الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (EROs) ان ووٹرس کو نوٹس جاری کریں گے جن کا ڈیٹا سال 2002 کی ووٹر لسٹ سے میاپ نہیں ہوپایا ہے اور وہ Enumeration Form کا فارم پُر کریں گے۔ اس کے علاوہ جن ووٹرس کی تفصیلات، عمر یا میاپنگ ڈیٹا میں انتخابی حکام کو کوئی شک یا شبہ ہوگا۔ انہیں بھی نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ نوٹس ملنے کی صورت میں شہریوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ 12 مستند شناختی کارڈس میں سے متعلقہ دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق ووٹرس کو عمر کے مختلف زمروں (Age Groups) کے لحاظ سے دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ یکم جولائی 1987 سے پہلے پیدا ہونے والے افراد کو نوٹس وصول ہوتے ہیں تو الیکشن کمیشن کے بتائے گئے مستند 12 دستاویزات میں سے صرف اپنا کوئی ایک شناختی کارڈ دکھانا کافی ہوگا۔ یکم جولائی 1987 سے 2 ڈسمبر 2004 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد نوٹس کی فہرست میں شامل نہیں تو انہیں اپنا شناختی کارڈ اور اس کے ساتھ ہی اپنے والدین (والد یا والدہ) میں سے کسی ایک کا شناختی کارڈ دکھانا لازمی ہوگا۔ 2 ڈسمبر 2004 کے بعد پیدا ہونے والے نوجوان ووٹرس کو نوٹس موصول ہوتا ہے تو انہیں اپنا شناختی کارڈ اور اس کے ساتھ اپنے والدین (والد اور والدہ) دونوں کے شناختی کارڈس پیش کرنے ہوں گے۔ انتخابی حکام کے مطابق ان سخت قوانین کا مقصد ووٹر لسٹوں سے بوگس اور مشکوک ناموں کو منسوخ کرتے ہوئے ووٹر لسٹ کو صد فیصد شفاف بنانا ہے۔ 2؍F