SIR مہم، 2 کروڑ 38 لاکھ ووٹرس کا ڈیٹا ریکارڈ پر موجود

   

گراؤنڈ لیول پر بی ایل اوز “SIR 2002” کی تفصیلات کی فراہمی میں ناکام، تکنیکی بحران
حقیقی ووٹرس الجھن کا شکار، ڈیٹا لنکنگ کے باوجود ووٹرس کے نام پرانے ریکارڈ سے مس میاچ

حیدرآباد۔ 8 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ بھر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جانے والی ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع ترمیم (SIR) مہم اس وقت شدید تکنیکی اور انتظامی انتشار کا شکار ہوچکی ہے جس کے باعث عوام میں اپنا حق رائے دہی کھو دینے کا شدید خوف پایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کرائی گئی حالیہ میاپنگ (ڈیٹا لنکنگ) میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست کے 2,38,62,332 سے زائد افراد کا ڈیٹا “SIR-2002” کی پرانی انتخابی فہرست سے منسلک (Link) پایا گیا ہے۔ کئی مقامات پر بی ایل اوز نے مقامی افراد، گاؤں کے سربراہوں اور کالونیوں کی ریزیڈینٹ ویلفر اسوسی ایشن سے بات چیت کرتے ہوئے ووٹرس کی میاپنگ کرانے کا دعویٰ کیا ہے اور الیکشن کمیشن کے سرکاری ریکارڈ میں بھی یہ عمل مکمل دکھایا گیا ہے لیکن انتہائی حیرت اور تشویش کی بات یہ ہے کہ جب فیلڈ لیول پر شہریوں سے اینومریشن فارمس بھروائے جارہے ہیں تو خود بی ایل اوز کو اس میاپنگ سازی سے متعلق “SIR-2002” کی ضروری تفصیلات ووٹرس کو فراہم کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زمینی سطح پر سب سے بڑی مصیبت یہ پیش آرہی ہیکہ Enumeration Form میں “SIR-2002” کی پرانی تفصیلات کس مخصوص خانے (Column) میں پر کی جائے اور انہیں کیسے بھرا جائے اس بارے میں نہ تو شہریوں کو کوئی علم ہے اور نہ ہی بی ایل اوز ان کی صحیح رہنمائی کرپا رہے ہیں جو ووٹرس 2002 میں رجسٹرڈ تھے ان کی پرانی تفصیلات کو موجودہ فارم کے ساتھ کیسے جمع کیا جائے یہ ایک بڑا معمہ بن چکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بہت سے شہریوں نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے شہر، اضلاع اور یہاں تک کہ ریاستیں تبدیل کرلی ہیں جس کی وجہ سے ان کا اس وقت کا پرانا ڈیٹا کہیں دستیاب نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اگرچہ کہ تفصیلات آن لائن لی جارہی ہیں لیکن جیسے ہی کسی ووٹر کا نام پورٹل پر درج کیا جاتا ہے وہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم “SIR-2002” کے پرانے ریکارڈ سے میل نہیں کھاتا یعنی (Match) نہیں ہوتاجس کی وجہ سے حقیقی ووٹرس کے فارم مسترد ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ شہروں، ضلعی مراکز اور بڑے قصبوں میں سینکڑوں کی تعداد میں پولنگ بوتھ موجود ہیں ایسے میں شہریوں کے لئے یہ معلوم کرنا انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے کہ ان کا ووٹ اصل میں کس بوتھ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر پتے تبدیل ہوئے ہیں پرانے مکانات کو منہدم کرکے نئی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جنہیں میونسپل کارپوریشنس کی جانب سے بالکل نئے مکان نمبر الاٹ کئے گئے ہیں۔ اس جیوگرافیکل تبدیلی کی وجہ سے پولنگ بوتھ کے مراکز اور ان کے سیریل نمبرات بھی مکمل طور پر تبدیل کردیئے گئے ہیں۔ بی ایل اوز خود الجھن کا شکار ہیں اور وہ شہریوں کو ان کا صحیح ریکارڈ دینے کے بجائے بار بار چکر کٹوانے کیلئے مجبور کررہے ہیں۔ ووٹرس میں یہ شدید خوف پیدا ہوچکا ہے کہ اگر انہوں نے فارم بھرنے میں ذرا سی بھی غلطی کی تو ان کا برسوں پرانا ووٹ مستقل طور پر فہرست رائے دہندگان سے خارج کردیا جائے گا۔ اس سنگین معاملے پر الیکشن کمیشن کی فوری مداخلت اور متبادل و آسان طریقہ کار کا اعلان وقت کی اہم ضروت بن چکا ہے۔ 2؍F

SIR مہم کے فارمس کی عاجلانہ تکمیل کیلئے
عوام کو آر وی کرنن کا مشورہ
حیدرآباد ۔8 ۔ جولائی (سیاست نیوز) فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظر ثانی مہم ایس آئی آر کے اینومریشن فارمس کی تکمیل کے سلسلہ میں عوام میں پائی جانے والی الجھن پر حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن نے رائے دہندوں سے کہا کہ وہ 2002 فہرست رائے دہندگان میں نام کی عدم شمولیت پر پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2002 کی فہرست میں اپنا یا اپنے والدین کا نام نہ ہونے پر عوام کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ آر وی کرنن نے رائے دہندوں کو مشورہ دیا کہ وہ فارم میں ابتدائی سیکشن کو خالی چھوڑدیں اور اپنی تازہ ترین تفصیلات درج کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر مہم کا مقصد 2002 کی فہرست کے رائے دہندوں کو تازہ ترین فہرست سے مربوط کرنا ہے۔ اگر 2002 کی فہرست میں نام نہیں پایا گیا تو عوام کو فارم میں موجودہ تفصیلات کو درج کرنا چاہئے۔ اگر 2002 کی فہرست میں نام پایا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس شخص کے والدین بھی فہرست میں شامل رہے ہوں گے۔ 2002 میں 18 سال سے کم عمر افراد یا جن کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں، وہ اپنے سرپرستوں یا والدین کی الیکشن تفصیلات پیش کرتے ہوئے نام کی شمولیت کو یقینی بناسکتے ہیں۔ انہوں نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ کسی تاخیر کے بغیر فارمس کی تکمیل کرتے ہوئے متعلقہ بی ایل اوز کے حوالے کریں۔1/k