نوٹس کا جواب آن لائن آف لائن دینے کی سہولت ۔ آن لائن میں جمع کی گئی دستاویزات بی ایل او کو دینا لازمی
انتخابی عملے کی جانب سے نوٹس موصول کرنے والے تمام ووٹرس سے ایک جیسے دستاویزات سماعت کے دوران وصول کرنے کی شکایت
حیدرآباد ۔ 10 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی درستگی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے رائے دہندگان کو جاری کئے جانے والے نوٹس کا بروقت اور صحیح جواب دینا انتہائی ضروری ہوگیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ووٹر کو بی ایل او کی جانب سے نوٹ وصول ہوتا ہے تو اس کا مکمل جواب آن لائن یا آف لائن فارمیٹ میں پیش نہیں کیا جاتا ہے تو ووٹر لسٹ میں نام کی منسوخی یا دیگر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق نوٹس وصول ہونے پر ووٹرس کو سب سے پہلے اس میں درج کی گئی وجہ کو غور سے پڑھنا چاہئے اور اپنی تفصیلات کو ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات اور شواہد کی کاپیاں فوری طور پر فراہم کرنی چاہئے ۔ سب سے پہلے نوٹس پر توجہ دیں کہ آیا یہ پتہ کی تبدیلی ، نام میں غلطی ، ایک سے زائد مقامات پر درج نام یا خاندانی تفصیلات کی تصدیق سے متعلق ہے ۔ ووٹر کی طرف سے دی جانے والی وضاحت میں مکمل نام ۔ EPIC کارڈ (ووٹر شناختی کارڈ ) نمبر ، موجودہ پتہ ، موبائل نمبر اور بنیادی تفصیلات کا درست ہونا ضروری ہے ۔ شناختی ثبوت میں آدھار کارڈ ، پیان کارڈ یا پاسپورٹ شامل ہے ۔ پتے کے ثبوت میں راشن کارڈ ، برقی کا بل یا بینک پاس بک شامل ہے ۔ تاریخ پیدائش کے ثبوت میں پیدائش کا سرٹیفیکٹ ، ایس ایس سی ، میمو شامل ہے ۔ دیگر ثبوت میں اگر ووٹر لسٹ کی پرانی نقول یا اہل خانہ کی تفصیلات درکار ہوں تو ان کی فوٹو کاپیاں بھی منسلک کی جائیں ۔ اگر نوٹس ECI Portal کی ویب سائٹ یا Ecinet Mobile App پر دستیاب ہے تو ووٹر اپنے تمام ثبوت اور دستاویزات آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کرسکتے ہیں ۔ آن لائن پورٹل پر تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے باوجود انتخابی حکام کی جانب سے مشورہ دیا گیا ہے کہ آن لائن رجسٹرڈ شواہد کی کاپیاں ( Xerox copies ) اپنے متعلقہ بی ایل او کو بھی فراہم کریں ۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ووٹر کی تفصیلات اور ثبوت مکمل طور پر پورٹل پر اپ لوڈ نہ ہونے یا بی ایل او تک نہ پہونچنے کی صورت میں ووٹر لسٹ کی تصدیق ادھوری رہ جائے گی ۔ جس کے باعث رائے دہندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ شہر و اضلاع سے یہ بھی شکایتیں وصول ہورہی ہیں کہ جو ووٹرس نوٹس موصول ہونے کے بعد مقررہ وقت اور طئے شدہ تاریخ کو سماعت کے لیے رجوع ہورہے ہیں انہیں کونسی نوٹس وصول ہوئی ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر کونسے دستاویزات پیش کرناچاہئے ۔ اس کا انتخابی عملہ باریک بینی سے چھان بین نہیں کررہا ہے ۔ ہر ووٹر سے ، آدھار کارڈ ، ایس ایس سی و دیگر تعلیمی سرٹیفیکٹس اور ووٹر شناختی کارڈ کی کاپیاں وصول کرتے ہوئے فوٹو کھینچ کر واپس لوٹا رہا ہے ۔ نام کی غلطیاں یا جس سے ان کی میاپنگ کی گئی ہے ۔ ان کے نام ، عمر یا پتے کی غلطیوں کے ثبوت پیش کرنے کی وضاحت طلب نہیں کی جارہی ہے ۔ جب ووٹرس کی جانب سے سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنے اطمینان کے لیے انتخابی عملہ سے سوال کیا جارہا ہے ۔ کیا انہوں نے جو بھی تفصیلات پیش کی ہے وہ درست ہے تو انتخابی عملہ یہ جواب دے رہا ہے کہ ان کی تفصیلات آن لائن میں اپ لوڈ کردی جائے گی اگر الیکشن کمیشن مطمئن ہوگا تو انہیں کوئی نوٹس نہیں آئے گی ورنہ دوبارہ نوٹس آسکتی ہے یا طلب کیا جاسکتا ہے ۔ انتخابی عملے کے اس جواب سے شہریوں میں الجھن پائی جاتی ہے ۔۔ 2/m/b