حیدرآباد۔/25 مئی، (سیاست نیوز) تلنگانہ میں سرمایہ کاری کیلئے مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات میں مصروف وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو ایک اور کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ دنیا کی نامور الیکٹرانک کمپنی شنیڈر الیکٹرانکس نے تلنگانہ میں 1000 کروڑ کی سرمایہ کاری سے الیکٹرانک مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے نمائندہ لوک ریمونٹ نے کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی اور تلنگانہ میں سرمایہ کاری کیلئے امکانات کا جائزہ لیا۔ کے ٹی آر نے ٹوئٹر پر کمپنی کی سرمایہ کاری کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے یہ اعلان کرنے میں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ شنیڈر الیکٹرانکس نے تلنگانہ میں اپنے یونٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو کمپنی کا دوسرا مینوفیکچرنگ یونٹ ہوگا۔ انہوں نے تلنگانہ پویلین میں کمپنی کے نمائندوں کے ساتھ ثمر آور ملاقات کا حوالہ دیا۔ کے ٹی آر نے لکھا کہ شنیڈر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور انرجی مینجمنٹ میں عالمی قیادت کرتی ہے۔ 100 ممالک میں کمپنی کی شاخیں موجود ہیں۔ تلنگانہ کی ترقی سے متاثر ہوکر شنیڈر کمپنی تلنگانہ میں صنعتوں کیلئے انرجی مینجمنٹ اور آٹو میشن ضرورتوں کی تکمیل کرے گی۔ ملاقات کے موقع پر پرنسپل سکریٹری انڈسٹریز جیش رنجن بھی موجود تھے۔ کمپنی کے نمائندوں نے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات اور سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ ڈاؤس میں قیام کے دوران کے ٹی آر نے کئی بین الاقوامی کمپنیوں سے سرمایہ کاری کیلئے معاہدے کئے ہیں۔ر