تقسیم ریاست کے وعدوں کی عدم تکمیل پر توجہ دی جائے گی ۔ ٹی آر ایس کی حکمت عملی
حیدرآباد۔24جولائی (سیاست نیوز) تشکیل تلنگانہ کے بعد تیسری اسمبلی انتخابات بھی تلنگانہ جذبات کو موضوع بنا کر لڑے جائیں گے! برسراقتدار جماعت کی جانب سے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ وہ ایک بار پھر تلنگانہ جذبات کا سہارا لے کر انتخابات میں حصہ لے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے کالیشورم پراجکٹ کو قومی درجہ دینے مرکزی حکومت کے موقف کو تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی اور کھمم کے 5 مواضعات کے مسئلہ کو شدت سے اٹھانے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹی آر ایس کی پالیسی کے تحت ہی وزیر ٹرانسپورٹ نے آندھرا پردیش کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کوشش کی جا رہی ہے کہ تلنگانہ عوام میں پھر سے تلنگانہ جذبات کو ابھارا جائے اور علاقہ واریت کے فرو غ کے ذریعہ عوام کو متحد کرنے اقدامات کئے جائیں۔ ٹی آر ایس ہی نہیں بلکہ کانگریس اور بی جے پی بھی عوام کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ کانگریس کا کہناہے کہ پارٹی نے اقتدار کی پرواہ کئے بغیر تلنگانہ عوام کے جذبات کی قدر کی اور آندھرا پردیش کی تقسیم کو منظوری دی جس کے سبب آج علحدہ تلنگانہ موجود ہے جبکہ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی ابتداء سے ہی علحدہ تلنگانہ کی حامی رہی اور جدوجہد میں بی جے پی نے بھی حصہ لیا اور قومی سطح پر علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کو پارٹی کی تائید حاصل رہی ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے 2014 میں تشکیل تلنگانہ کے بعد تلنگانہ کے نام پر اقتدار حاصل کیا جبکہ 2018 کے انتخابی موضوعات میں ریاستی کی ترقی اور مسائل کے حل کو ہی موضوع بنایا گیا تھا لیکن اب تیزی سے تبدیل ہورہے حالات کو دیکھتے ہوئے کہاجا رہا ہے کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے پھر علاقہ واریت کے فروغ کے ذریعہ انتخابات میں حصہ لینے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے گذشتہ دنوں پولاورم پراجکٹ کی تعمیر کے متعلق ریمارکس کے ذریعہ حکومت آندھرا پردیش کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے جواب میں آندھرا کے وزراء کے جواب کے بعد ایسا محسوس ہورہا ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی جار ہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ٹی آر ایس تقسیم ریاست کے وقت کئے گئے وعدوں پر عمل نہ کئے جانے کے معاملہ کو اٹھا کر تلنگانہ کے ساتھ نا انصافیوں کو موضوع بنائے گی۔ ٹی آر ایس کی حکمت عملی کا بی جے پی اور کانگریس باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں اور کانگریس نے کے چندر شیکھر راؤ کے حصول تلنگانہ سے قبل وعدوں کو پورا نہ کرنے کے علاوہ دیگر امور کو دوبارہ عوام کے درمیان پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ٹی آر ایس نے مرکزی حکومت کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔