آبادی کی بنیاد پر حلقوں کی ازسر نو حد بندی ناقابل قبول: چیف منسٹر ریونت ریڈی

   

چینائی میں منعقدہ کُل جماعتی اجلاس سے خطاب، مرکز کے خلاف متحد ہوجانے جنوبی ہند کی سیاسی جماعتوں سے اپیل
حیدرآباد۔/22 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ حلقوں کی ازسر نو حد بندی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ جنوبی ہند سے ہونے والی ناانصافی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ جنوبی ہند میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے اس لئے حلقوں کی از سر نوحد بندی کو ہتھیار بناکر بی جے پی جنوبی ہند کو نقصان پہنچانے کی سازش کررہی ہے۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو اسٹالن کی صدارت میں چینائی میں منعقدہ جنوبی ہند کُل جماعتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کم عمر ریاست ہونے کے باوجود ترقی کے معاملہ میں بڑی ریاستوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ جی ایس ڈی پی اور فی کس آمدنی میں ریاست تلنگانہ بڑے پیمانے پر ترقی کررہی ہے۔ تلنگانہ میں فلاحی پروگراموں پر بڑے پیمانے پر عمل کیا جارہا ہے۔ ٹیکس کی شکل میں مرکز کو بھاری رقم ادا کی جارہی ہے لیکن کم مقدار میں مرکزی حکومت تلنگانہ کو واپس کررہی ہے۔ تلنگانہ کی جانب سے مرکز کو ایک روپیہ فراہم کرنے پر مرکزی حکومت تلنگانہ کو 42 پیسے لوٹارہی ہے۔ وہیں ٹاملناڈو کو 26 پیسے، کرناٹک کو 16 پیسے، کیرالا کو 49 پیسے حاصل ہورہے ہیں لیکن بہار کو6.06 روپئے حاصل ہورہے ہیں۔ اسی طرح اترپردیش کو 2.03 روپئے، مدھیہ پردیش کو 1.73 روپئے حاصل ہورہے ہیں۔ تیز رفتار ترقی کرنے والی ریاستوں کو سیاسی مفادات کی خاطر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ حلقوں کی ازسر نو حد بندی سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے کی جارہی ہے اس میں شفافیت اور جوابدہی کا رجحان نہیں ہے۔1976 میں لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کئے بغیر ریاستوں میں حلقوں کی حدبندی کی گئی تھی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کئے بغیر حلقوں کی ازسرنو حد بندی کریں۔ آبادی کے تناسب سے کی جانے والی حلقوں کی حد بندی کو جنوبی ہند کی ریاستیں قبول نہیں کریں گی۔ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے زبردستی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کی جاتی ہے تو جنوبی ہند کے باشندے دوسرے درجہ کے شہری کہلائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں آبادی کے تناسب سے حلقوں کی ازسرنو حد بندی کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شمالی ریاستوں کی بالادستی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔2