تہران ؍ لندن ۔ 7 اگست (ایجنسیز) ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نئے انتظام سے متعلق مذاکراتی فریم ورک کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس کے تحت اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں سے مختلف سمندری خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ایک باخبر ذریعہ نے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور منصوبے میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے موجودہ نظام کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی عبوری مرحلے میں بحری جہاز آبنائے ہرمز میں ایران کے ساحل کے قریب واقع شمالی بحری راستے سے داخل ہوں گے جبکہ عمان کے ساحل کے قریب موجود جنوبی راستے سے باہر نکلیں گے۔اس عبوری انتظام کا مقصد جہازوں کی آمدورفت کو بتدریج نئے نظام کی طرف منتقل کرنا ہوگا تاہم اس دوران موجودہ شمالی اور جنوبی راستے مکمل طور پر ختم نہیں کیے جائیں گے۔ایرانی ذریعہ کے مطابق عبوری مرحلہ مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں شمالی اور جنوبی دونوں موجودہ بحری راستوں پر جہازوں کی آمدورفت ختم کرنے کی تجویز ہے۔اس کے بعد تمام بحری جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کے درمیان میں ایک مرکزی بحری راہداری مقرر کی جائے گی جس کے ذریعہ تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔مجوزہ نظام کے تحت آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی آمدورفت کا انتظام ایران کرے گا جبکہ آبنائے سے باہر جانے والے جہازوں کی نگرانی اور انتظام ایران اور عمان مشترکہ طور پر کریں گے۔آبنائے ہرمز میں رواں ہفتے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ عالمی منڈی کی نظریں ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات پر مرکوز ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر سے جمعرات تک صرف 33 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ گزشتہ ہفتے اسی مدت کے دوران یہ تعداد 50 جہاز تھی۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم سمندری گزرگاہ میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً ایک تہائی کم ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک روز قبل صرف 4 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں انتہائی بڑا خام تیل بردار جہاز نیسوس کیا بھی شامل تھا۔