آدتیہ L1 کی کامیابی میں مسلم خاتون سائنسداں کا کلیدی رول

,

   

نئی دہلی :انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(اسرو) نے ہفتہ کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے ایک شمسی مشن – آدتیہL1 کامیابی کے ساتھ لانچ کرکے اپنی خلائی سائنس کی تاریخ میں ایک اور نیا باب لکھا۔ہندوستانی خلائی ایجنسی میں خواتین کی طاقت آہستہ آہستہ منظر عام پر آرہی ہے اور وہ بھی بین سیاروں کے مشنوں میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں۔ ایسی ایک خاتون جو ٹاملناڈو سے تعلق رکھتی ہیں نگار شاجی ہیں جنھوں نے آدتیہL1 سولر مشن کے پراجکٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ خلائی جہاز کو خلائی سہولت کے انتہائی قابل اعتماد راکٹ سسٹم پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C57) کا استعمال کرتے ہوئے لانچ کیا گیا۔ ان تمام با صلاحیت ذہنوں میں سے جنہوں نے اس پراجکٹ کے کامیاب آغاز میں اپنا اہم کردار ادا کیا ایک نام سب سے زیادہ روشن ہے وہ نگار شاجی ہے۔ جنوبی ایشیائی سائنسدان نگار شاجی جو چندریان 3 کے بعد شمسی تحقیق کے لیے ISRO کے آدتیہ L1 پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں فی الحال ٹرینڈ کر رہی ہیں اور انہوں نے اسکول اور کالج کی تعلیم میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔آج لانچ کے مرکز میں نگار شاجی موجودتھیں جنہوں نے آدتیہ-L1 مشن کی پراجکٹ ڈائریکٹر کے طور پر اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ہفتہ کو مشن کی کامیابی کو یقینی بنایا۔خلائی ایجنسی کے ذرائع نے بتایا کہ اسرو ISRO میں 35 سال کی خدمات کے ساتھ شاجی نے مختلف ذمہ داریوں پر ہندوستانی ریموٹ سینسنگ، مواصلات اور بین سیارہ سیٹلائٹ پروگراموں میں نمایاں شراکت کی ہے۔59 سالہ نگار شاجی ٹاملناڈو کے تینکاسی ضلع سے تعلق رکھتی ہیں۔ نگار شاہ جی کا اصل نام نگار سلطانہ ہے۔ وہ ریاست کے سینگوٹائی قصبہ میں شیخ میران ( کسان) اور ایک گھریلو خاتون زیتون بی کے ہاں پیدا ہوئیں ۔نگارشاجی نے ترونیل ویلی کے سرکاری انجینئرنگ کالج سے الیکٹرانکس اور کمیونیکیشن انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری مکمل کی اور بعد میں رانچی کے برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹرانکس اور کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد ا نہیں اسرو میں ملازمت مل گئی۔ نگار شاجی نے مختلف ممالک میں خلائی تحقیق کے اداروں کا دورہ کر کے خلائی تحقیق سے متعلق اضافی تجربات حاصل کیے ہیں، جن میں امریکہ میں واقع ناسا اسپیس ریسرچ سینٹر بھی شامل ہے۔انھوںنے تعلیم کے ذریعے عروج حاصل کیا اور اعلیٰ تعلیم کے بہترین انسٹی ٹیوٹ میں شمولیت اختیار کی۔ اسرو میں سائنسدان بننے کے بعد اس کے مختلف پراجکٹس میں کام کیا اور اب اسرو کے سب سے اہم شمسی تحقیقی پراجکٹ، آدتیہ L1 کے ڈائریکٹر بن گئیں۔نگارشاجی نے میڈیا کو بتایاکہ وہ آٹھ سالوں سے اس پیچیدہ پراجکٹ کی سربراہی کر رہی ہوں۔ یہ ایک چیلنجنگ پراجکٹ تھا۔ خلائی جہاز کو ہالو آربٹ میں رکھنا خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ مزید یہ کہ پے لوڈ بھی اپنی نوعیت کے پہلے تھے ۔انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر مکینیکل انجینئر دبئی میں کام کر رہے ہیں ہے، بیٹا پی ایچ ڈی ہے اور ہالینڈ میں کام کر رہا ہے اور بیٹی ایک قابل ڈاکٹر ہے اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔